Monthly Archives: January, 2009

Hadith-e-Qudsi # 21


On the authority of Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him), who said that the Messenger (Sal Allahau Alaihi Wa Aalihi Wasallam) said that Allah Almighty said:

There are three (1) whose adversary I shall be on the Day of Resurrection a man who has given his word by Me and has broken it; a man who has sold a free man (2) and has consumed the price; and a man who has hired a workman, has exacted his due in full from him and has not given him his wage.

(1) i.e. types of men.

(2) i.e. a man who has made a slave of another and has sold him.

It was related by al-Bukhari (also by Ibn Majah and Ahmad ibn Hanbal).

Advertisements

Poetry by Hazrat Mehboob-e-Zaat (1898 – 1961) (کھینچی ہے خالق نے کیا تصویر میرے پیر کی)


کھینچی ہے خالق نے کیا تصویر میرے پیر کی

جان و دل میں بس گئی تصویر میرے پیر کی

بخش عرفان و ہدایت کر دیا دل رازداں

مجمعِ تخلیق ہے تصویر میرے پیر کی

مشتاق دنیا ہو گئی اس بھولی بھالی شکل کی

کرتے ہیں جن و ملک توقیر میرے پیر کی

پردہ ء نسیان و غفلت دور ہونا تھا محال

گر نہ کرتی رہبری تاثیر میرے پیر کی

میری بد تقدیر کا جب ہو سکا نہ کچھ علاج

چل گئی فوراً وہاں تدبیر میرے پیر کی

کر دیا تقدیر بد کو بہتر ایک تدبیر نے

دل کو روشن کر گئی تنویر میرے پیر کی

وصف جس کا خود کرے وہ ذاتِ رب العالمیں

وصف عاجز کیا کرے تحریر میرے پیر کی

میرا حسین راکبِ دوشِ رسول ہے


کلام: بشیر احمد

میرا حسین راکبِ دوشِ رسول ہے

وہ باغِ ہاشمی کا انمول پھول ہے

آغوشِ مصطفیٰ میں جو کھیلتا رہا

وہ نورِ چشمِ حیدر جگرِ بتول ہے

یہ قتیلِ دشتِ کربلا نے فخر سے کہا

نانا کے دیں کی خاطر شہادت قبول ہے

شہزادہ گلگوں قبا یہ تیرا حوصلہ

آنسو بہا نہ غم کیا نہ دل ملول ہے

کٹ جائیں گے جھکیں گے نہ باطل کے سامنے

اے یزید تیری ساری یہ کوشش فضول ہے

حلقوم خشک کانٹا ہوں خواہ ہزار بار

فریاد کرے تشنہ لبی یہ تیری بھول ہے

شبیر تیرا عزم ہے اک کوہِ پُر شکوہ

گردن نہ جھک سکے گی یہ تیرا اصول ہے

جنت ہے مِلک جن کی وہ ایسے تاجدار

یہ سلطنت تو ان کے پاؤں کی دھول ہے

میرا حسین راکبِ دوشِ رسول ہے


کلام: بشیر احمد

میرا حسین راکبِ دوشِ رسول ہے

وہ باغِ ہاشمی کا انمول پھول ہے

آغوشِ مصطفیٰ میں جو کحیلتا رہا

وہ نورِ چشمِ حیدر جگرِ بتول ہے

یہ قتیلِ دشتِ کربلا نے فخر سے کہا

نانا کے دیں کی خاطر شہادت قبول ہے

شہزادہ گلگوں قبا یہ تیرا حوصلہ

آنسو بہا نہ غم کیا نہ دل ملول ہے

کٹ جائیں گے جھکیں گے نہ باطل کے سامنے

اے یزید تیری ساری یہ کوشش فضول ہے

حلقوم خشک کانٹا ہوں خواہ ہزار بار

فریاد کرے تشنہ لبی یہ تیری بھول ہے

شبیر تیرا عزم ہے اک کوہِ پُر شکوہ

گردن نہ جھک سکے گی یہ تیرا اصول ہے

جنت ہے مِلک جن کی وہ ایسے تاجدار

یہ سلطنت تو ان کے پاؤں کی دھول ہے

نجات کی جب سبیل کرنا


کلام: سید نجم سبطین حسنی

نجات کی جب سبیل کرنا

حسین جیسا وکیل کرنا

حسین ملتا ہو سَر کے بدلے

تو زندگی کیوں طویل کرنا

“حسین فہمی سکھا رہا ہے

نبی کا سجدوں میں ڈھیل کرنا

حسین کی تشنگی سے سیکھو

فرات کو سلسبیل کرنا

مزاج قرآں سکھا رہا ہے

انہی کا ذکر جمیل کرنا

خیالِ ذبحِ عظیم آئے

تو ذکرِ فخرِ خلیل کرنا

سنو پیاسوں کو رونے والو

کبھی نہ آنکھیں بخیل کرنا

بہشت مٹھی میں چاہتے ہو

تو کربلا کی دَلیل کرنا

حسین سے مانگنا ہو حسنی

تو خواہشیں کیوں قلیل کرنا

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام


کلام: اعلیٰ حضرت

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

پار ہائے صحف غنچہائے قدس

اہلِ بیتِ نبوت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی

چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

اس شہیدِ بلا شاہِ گلگوں قبا

بیکسِ دشتِ غربت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے

لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے

جن کو کاندھوں پہ آقا بٹھاتے رہے

جن پہ سفاک خنجر چلاتے رہے

اُس حُسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام

جو جوانانِ جنت کا سردار ہے

جس کا نانا دو عالم کا مختار ہے

جو سراپائے محبوبِ غفّار ہے

جس کا سر دشت میں زیرِ تلوار ہے

اُس حُسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام

جس کو بیٹھے بٹھائے ستایا گیا

جس کو دھوکے سے کوفہ بلایا گیا

جس کے بچوں کے پیاسہ رلایا گیا

جس کی گردن پہ خنجر چلایا گیا

جس کے لاشے پہ گھوڑا دوڑایا گیا

اُس حُسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام

جس نے حق کربلا میں ادا کر دیا

اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا

گھر کا گھر سب سپردِ خدا کر دیا

جس نے اُمت کی خاطر فدا کر دیا

اُس حُسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام

جس کا جنت سے جوڑا منگایا گیا

جس کو دوشِ نبی پہ بٹھایا گیا

جس کے بیٹے کو قیدی بنایا گیا

جس کو تیروں سے چھلنی کرایا گیا

اُس حُسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام

بکھری پڑی ہے ناطقِ قرآن کی سورتیں


بکھری پڑی ہے ناطقِ قرآن کی سورتیں

قرآن بغل میں جا کے تو اُمت کے پاس دیکھ

شبیر کربلا میں ہیں چٹان کی طرح

رنج و الم بھی نہیں خوف و ہراس دیکھ

ماحولِ کُن فکاں کے نشیب و فراز میں

ممکن نہیں حسین کا ہم مرتبہ ملے

انصاف کی نظر سے مقامِ حسین کو

دیکھیں اگر تو حدیثِ رسولِ خدا ملے

مجھ سے حسین ذات ہے میری حسین سے

دیتے ہوئے پیام یہی مصطفیٰ ملے

شبیر کا پیار تو روحِ نماز ہے

یہ سنتِ نبی سے سبق برملا ملے

بدن دریدہ وہ درمیان لاشوں کے

سما بھی گرمیِ روزِ حساب جیسا تھا

نہ ہے نہ آئے گا صابر زمانے میں

خدا کی راہ میں وہ کامیاب جیسا تھا

سمجھا کے اُس نے مقصدِ رودادِ کربلا

نامِ حسین زندہ و جاوید کر دیا

ظلمِ یزید اس نے سرِ عام کر دیا

نامِ یزید دہر میں دشنام کر دیا

علی کی بیٹی


کلام: سید محسن نقوی

قدم قدم پہ چراغ ایسے جلا گئی ہے علی کی بیٹی

یزیدیت کی ہر اک سازش پہ چھا گئی ہے علی کی بیٹی

کہیں بھی ایوان ظلم تعمیر ہو سکے گا نہ اب

جہاں میں ستم کی بنیاد اس طرح سے ہلا گئی ہے علی کی بیٹی

عجب مسیحا مزاج خاتون تھیں کہ لفظوں کے کیمیا سے

حسینیت کو بھی سانس لینا سکھا گئی ہے علی کی بیٹی

بھٹک رہا تھا دماغِ انسانیت جہالت کی تیرگی میں

جہنم کے اندھے بشر کو رستہ دکھا گئی ہے علی کی بیٹی

دکان وحدت کے جوہری دم بخود ہیں اس معجزے پہ اب تک

کہ سنگ ریزوں کو آبگینہ بنا گئی ہے علی کی بیٹی

خبر کرو اہل جور کو اب حسینیت انتقام لے گی

یزیدیت سے کہو سنبھل جائے کہ آگئی ہے علی کی بیٹی

نبی کا دین اب سنور سنور کر یہ بات تسلیم کر رہا ہے

اجڑ کے بھی انبیاء کے وعدے نبھا گئی ہے علی کی بیٹی

کئی خزانے سفر کے دوران کر گئی خاک کے حوالے

کہ پتھروں کی جڑوں میں ہیرے چھپا گئی ہے علی کی بیٹی

یقین نہ آئے تو کوفہ و شام کی فضاؤں سے پوچھ لینا

یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی ہے علی کی بیٹی

ابد تک اب نہ سر اٹھا کے چلے گا کوئی یزید زادہ

غرور شاہی کو خاک میں یوں ملا گئی ہے علی کی بیٹی

گزر کے چپ چاپ لاش اکبر سے پابرہنہ رسن پہن کر

خود اپنے بیٹوں کے قاتلوں کو رلا گئی ہے علی کی بیٹی

میں اس کے در کے گدا گروں کا غلام بن کر چلا تھا محسن

اسی لئے مجھ کو رنج و غم سے بچا گئی ہے علی کی بیٹی

سلام بحضورِ عالی مقام


السلام اے بوسہ گاہِ مصطفیٰ

السلام اے نُورِ چشمِ مرتضیٰ

السلام اے لختِ قلبِ فاطمہ

السلام اے روح و جانِ مجتبیٰ

السلام اے بسملِ تیغِ جفا

السلام اے زخمی تیرِ قضا

السلام اے صدرِ بزمِ اتقیا

السلام اے محو تسلیم و رضا

السلام اے مظہرِ خوابِ خلیل

السلام اے جامِ بخشش و سلسبیل

السلام اے مصدرِ صبرِ جمیل

السلام اے عاشقِ ربِّ جلیل

السلام اے سید عالی مقام

السلام اے دین کے سچے امام

السلام اے زینتِ بیت الحرام

السلام اے رکھنے والے حق سے کام

السلام اے وارثِ علمِ نبی

السلام اے نائبِ مولیٰ علی

السلام اے واقفِ سرِّ خفی

السلام اے باغِ وحدت کی کلی

السلام اے دستِ گیرِ بیکساں

السلام اے دردمندِ عاصیاں

السلام اے سبطِ ختم المرسلیں

آپ سا صابر کوئی دیکھا نہیں

السلام اے پیشوائے سالکیں

اے جوانِ خاص فردوسِ بریں

السلام اے رہبرِ دینِ متین

سرورِ عالم امیر المؤمنین

حوضِ کوثر کے تمہیں ٹھہرے قسیم

پیاسا رہ جائے نہ یہ بندہ نسیم

میں بھی ہوں مشتاقِ الطافِ عمیم

اے کریم ابن الکریم ابن الکریم

Hadith-e-Qudsi # 20


On the authority of Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him), who said that the Messenger (Sal Allahau Alaihi Wa Aalihi Wasallam) said:

The gates of Paradise will be opened on Mondays and on Thursdays and every servant [of Allah] who associates nothing with Allah will be forgiven, except for the man who has a grudge against his brother. [About them] it will be said: Delay these two until they are reconciled; delay these two until they are reconciled.

It was related by Muslim (also by Malik and Abu Dawud).