Hazrat Ali’s quote # 25


ایمان

 

ایمان کے چار ستون ہیں۔ صبر، یقین، عدل، جہاد۔

صبر کے چار شعبے ہیں۔ شوق، خوف، زُہد، اُمید۔ جو شخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ خواہشات سے الگ ہو جاتا ہے۔ جسے آتشِ جہنم کا خوف ہوتا ہے وہ حرام سے بچتا ہے۔ جو زُہد کو اختیار کرتا ہے اسے مصیبتیں ہلکی معلوم ہوتی ہیں۔ جسے موت کی امید ہوتی ہے وہ نیک اعمال میں جلدی کرتا ہے۔

یقین کی چار شاخیں ہیں، نکتہ رسی، حقائق تک نظر پہنچنا، عبرتوں سے سبق لینا اور سابقین کے اچھے طریقے اپنانا – تو جس نے نگاہِ نکتہ رس پا لی، حکمت اس پر واضح ہو گئی اور جس پر حکمت کا اِنکشاف ہوا اس نے عبرت کو پہچان لیا اور جو عبرت کو سمجھ گیا وہ گویا گزرے ہوئے انسانوں میں رہ لیا۔

عدل کے چار شعبے ہیں۔ سمجھ کی باریک بینی، علم کی گہرائی، فیصلوں کی خوبی، حلم کا ثبات، جس نے باریک بینی سے کام لیا اس نے علم کی گہرائی پا لی۔ جس نے علم کی گہرائی پا لی وہ فیصلوں کی گھاٹیوں میں کامیاب ہوا۔ جس نے حلم کو اپنا لیا وہ اپنے معاملے میں حد سے آگے نہیں بڑھتا اور لوگوں میں ایک پسندیدہ زندگی گزارتا ہے۔

جہاد کی چار قسمیں ہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، مشکل مقامات پر سچائی، بدکاروں سے دشمنی۔

امر بالمعروف کا عامل مومنوں کی مدد کرتا ہے۔ نہی عنِ المُنکر کا کار گزار منافقوں کے لیے موجبِ رسوائی ہوتا ہے۔ اہم مقامات پر سچ بولنے والا اپنا حق ادا کرتا ہے اور جو بدکاروں کا دشمن اور خوشنودی خدا کے لیے ان سے ناراض ہوتا ہے، خدا بھی اس کی طرف سے ان سے ناراض ہوتا ہے – قیامت کے دن وہ اس شخص سے راضی ہو گا۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: