Hazrat Ali’s quote # 90


علم و عمل

کمیل! (ایک صحابی) لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں:

عَالمِ ربّانی‘ نجات کے راستے کا طالب علم اور وہ کمزور اور فضول اشخاص جو ہر چیخنے والے کے پیچھے اور ہر ہوا کے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں نے عقل کے نور سے روشنی نہ لی‘ کسی مضبوط رکن میں پناہ حاصل نہ کی۔

کمیل! علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور مال کو تم بچاتے پھرتے ہو پھر بھی خرچ ہونے سے کم ہو جاتا ہے جبکہ علم استعمال کرنے سے نشو و نما پاتا ہے جس کے برعکس مالی مصنوعات مال کے ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

کمیل! معرفتِ علم ایک مذہب ہے جس کے لوگ پرستار ہیں۔ اس کے سہارے انسان زندگی میں عبادت کا فائدہ حاصل کرتا ہے اور مرنے کے بعد اچھا نتیجہ۔ علم حاکم ہے اور مال محکوم۔

کمیل! مال کے جمع کرنے والے اپنی زندگی میں ہلاک ہو گئے اور علما جب تک زمانہ باقی ہے اس وقت تک باقی ہیں۔ اب کے اجسام اٹھ گئے مگر دلوں میں ان کی تصویریں ہیں۔

یاد رکھو! (اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا) یہاں بے انتہا علم ہے۔ کاش اس کے اٹھانے والے مل جاتے! ہاں کچھ حاصل کرنے کے شوقین ضرور ہیں مگر ان کی طرف سے اطمینان نہیں کیونکہ وہ دین کو دنیا کا آلہ بنانے والے ہیں۔ خُدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے بندوں پر رعب ڈالنے والے ہیں اور حجتوں سے اولیاء اللہ پر برتری چاہنے والے ہیں یا پھر ایسے ہیں جو حق کے پرستار ہیں مگر ان کے گوشہ ہائے دماغ میں بصیرت نہیں۔ پہلا شبہ جو ان کے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ شک کی چنگاریاں چمکا دیتا ہے۔ لہٰذا دونوں میں کوئی اس کے قابل نہیں۔

ان کے علاوہ وہ لوگ لذتوں کے از حد شوقین‘ خواہشات کے بہت جلد مطیع ہو جانے والے یا جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی پر فریفتہ ہیں۔ یہ دونوں (یعنی عیاش اور زر اندوز) بھی دین کے محافظ تو ہیں مگر کسی کام کے نہیں ہیں۔ ان سے ملتے جلتے تو چرنے والے جانور ہیں۔ بس اسی وجہ سے علم بھی علما کے ساتھ مر جاتا ہے۔

لیکن‘ زمین حجت و خُدا سے خالی نہیں رہتی۔ وہ یا تو ظاہر اور معلوم ہو گا یا خوف اعداء سے پردۂ غیب میں ــــ اور یہ صرف اس لیے کہ کہیں حجتِ الہٰی اور بیّناتِ خداوندی سے زمین خالی نہ ہو جائے مگر ایسے لوگ تھوڑے ہیں اور عوام کے ہنگاموں سے دور۔ وہ بخدا گنتی میں کم ہیں مگر خدا کے یہاں عزّت میں زیادہ ہیں۔

ان سے خُدا اپنی حجتوں اور آیتوں کی حفاظت کراتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنا منصب کسی اپنے جیسے منصب دار کے دل میں بو دیتے ہیں۔ بصیرت اور علمِ حقیقی ان پر ایک ساتھ نازل ہوتا ہے۔ پھر یہ لوگ سکونِ یقین سے جا ملتے ہیں ــــ وہ دنیا میں ایسے جسموں کے ساتھ رہتے ہیں جن کی روحیں منزلِ بلند میں ہوتی ہیں۔ یہی لوگ زمین پر خدا کے نائب ہیں اور اس کے دین کے داعی!

ہائے مجھے ان کو دیکھنے کا شوق ہے ــــ !

ان میں سے نہ ہونا جو بغیر عمل آخرت کی تمنا کرتے ہیں اور اُمیدوں کو طول دینے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے توبہ کو ملتوی کرتے رہتے ہیں۔

زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر دنیا پرستوں کے سے عمل۔ انہیں اگر دنیا سے کچھ ملتا ہے تو پیٹ نہیں بھرتا اور محروم کر دیا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتے۔ جو ملا اس کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہیں۔ جو باقی ہے اس میں زیادتی چاہتے ہیں۔ انہیں روکا جاتا ہے مگر ہوس رانی سے نہیں رکتے‘ جن چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے انہیں بجا نہیں لاتے۔ گنہگاروں سے دشمنی رکھتے ہیں مگر خود بھی اُن ہی میں سے ہیں۔ گناہوں کی زیادتی کی بنا پر موت کو پسند نہیں کرتے اور ایسے عمل پر قائم ہیں۔ جن سے موت ناپسند ہوتی ہے۔ بیمار پڑتے ہیں تو شرمندہ ہوتے ہیں اور جب تندرست ہو جاتے ہیں تو مطمئن ہو کر بے فکر بن جاتے ہیں۔ تندرستی میں اپنے اوپر ناز کرتے ہیں اور آزمائش میں مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی امتحان آ پڑتا ہے تو چیخ اٹھتے ہیں اور اگر کوئی آرام نصیب ہو جائے تو دیوانے بن جاتے ہیں۔ خیالات میں انسان کا نفس ان پر مسلط رہتا ہے لیکن یقین میں غالب نہیں۔ دوسرے کو معمولی گناہ پر ڈراتے ہیں لیکن اپنے لیے اپنے عمل سے زیادہ اجر کی اُمید رکھتے ہیں۔

فراغت اور اطمینان نصیب ہوتا ہے تو مغرور اور دیوانے ہو جاتے ہیں اور محتاج ہوتے ہیں تو خُدا سے مایوس اور سست۔ عمل کرتے ہیں تو کوتاہی کے ساتھ مگر سوال کرتے ہیں تو بڑے زور میں۔ ہوس پیدا ہوتی ہے تو گناہ میں جلدی اور توبہ میں تاخیر کرتے ہیں اور اگر کوئی تکلیف پیدا ہو جاتی ہے تو دین کی پابندیوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔

عبرتوں کی تفصیل تو بیان کرتے ہیں مگر خود تفصیل نہیں لتیے۔ وعظ میں بڑا مبالغہ کرتے ہیں مگر خود نصیحت قبول نہیں کرتے تو گویا وہ قول پر ناز کرتے ہیں لیکن عمل میں کچھ نہیں۔

فنا ہونے والی چیزوں میں مقابلہ کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سستی کرتے ہیں۔ نفعِ اُخروی کو نقصان اور نقصانِ آخرت کو نفع سمجھتے ہیں۔ موت سے ڈرتے ہیں مگر فنا کی طرف نہیں بڑھتے۔ غیروں کے ان گناہوں کو بہت سمجھتے ہیں جو خود ان کے اکثر گناہوں کے مقابلے میں کم ہیں اور اپنی ان عبادتوں کو زیادہ سمجھتے ہیں جو دوسروں کے مقابلے میں حقیر ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ دوسروں پر طنز کرتے ہیں مگر اپنے سلسلے میں سہل انگار۔ فقیروں کے ساتھ بیٹھ کر یادِ خُدا کرنے سے زیادہ دولت مندوں کے ساتھ فضولیات کو پسند کرتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لیے دوسرے کے نقصان کا فیصلہ کر لیتے ہیں مگر دوسروں کے لیے اپنے نقصان کا فیصلہ نہیں کرتے۔ دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں مگر خود گمراہ ہیں۔ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ وہ خود گناہ میں مبتلا ہیں۔ اپنا حق پورا کر لیتے ہیں مگر دوسروں کا حق ادا نہیں کرتے۔ راہِ خُدا سے ہٹ کر انسانوں سے ڈرتے ہیں مگر اس کی مخلوق ک بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: