Monthly Archives: July, 2011

Hazrat Ali’s quote # 133


انسان کی قیمت

 

ہر شخص کی قیمت اس کا شاہکار ہے۔

Advertisements

Hazrat Ali’s quote # 132


انسان کی قیمت

 

کہا کہنا مالک کا! (مالک بن اُشتر) اگر وہ پہاڑ ہوتا تو اکیلا ہی‘ اگر پتھر ہوتا تو سخت چٹان جس پر نہ سُم دار حیوان چڑھ سکتے اور نہ طائر پرواز کر سکتے۔ اس کی مثال فند کی ہے جو سب پہاڑوں سے الگ ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 131


انسان کی قیمت

ہم کسی کام میں اللہ کے شریک نہیں‘ بس اتنے ہی کے مالک ہیں جتنے کا اس نے مالک بنایا ہے۔ جب وہ کوئی چیز ہم سے لے لیتا ہے تو ہماری ذمہ داری ختم کر دیتا ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 130


انسان کی قیمت

 

لوگو! خدا سے ڈرو۔ ایک شخص بھی بے کار پیدا نہیں کیا گیا ہے کہ وہ کھیل کود میں لگ جائے‘ نہ کسی کو آزاد چھوڑا گیا ہے کہ لغویات میں پڑ جائے۔ جس نے اپنی غلط نگاہی سے آخرت کو خراب کیا، اس کی خوب صورت دنیا آخرت میں اس کے لیے اچھی جانشین نہیں ہے اور دنیا میں کام یاب ہونے والا اور مبتلائے فریب اس شخص سے بلند ہمت ہے جو آخرت سے تھوڑا حصہ بھی پا گیا۔

Hazrat Ali’s quote # 129


انسان کی قیمت

 

ہر شخص کی حیثیت اس کی ہمت کے بقدر ہے‘ سچائی مروت کے مطابق‘ شجاعت غیرت کے لحاظ سے اور پاک دامنی شرم کے معیار پر ہوتی ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 128


انسان کی قیمت

 

کنجوسی رسوائی ہے اور بزدلی انسان کا نقص۔ تنگ دستی سمجھ دار آدمی کو اپنی حجّت کے وقت گونگا بنا دیتی ہے (یعنی مال دار آدمی ہی کی بات مانی جاتی ہے)۔ غریب اپنے وطن میں بھی بے وطن ہے۔ بے چارگی ایک مصیبت ہے اور صبر بہادری‘ زُہد دولت ہے اور پرہیزگاری جنت۔

Hazrat Ali’s quote # 127


انسان کی حقیقت

 

اس کا حال ہی کیا جو اپنی بقا کے ہاتھوں فنا ہو گا، صحت کے بعد بیمار ہو گا، اپنی پناہ گاہ سے قبر میں پکڑ کر لایا جائے گا۔

Hazrat Ali’s quote # 126


انسان کی حقیقت

 

یہ فرزندِ آدم کو کیا ہو گیا ہے کہ فخر کرتا ہے حالانکہ اس کی ابتدا نجس پانی سے ہوئی ہے اور انتہا مردار پر ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 125


انسان کی حقیقت

 

یہ انسان بھی کس قدر حیرت انگیز ہے کہ چربی سے دیکھتا ہے، گوشت سے بولتا ہے، ہڈیوں سے سنتا ہے اور ایک شگاف سے سانس لیتا ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 124


عذاب و ثواب

وہ لوگ، جو آخرت کے کام کر کے دنیا کے طلب گار ہیں لیکن دنیا میں نیک کام کر کے آخرت کے طالب نہیں، انہوں نے اپنے جسم کو پست کر دیا ہے، اپنے قدموں کو قریب رکھا ہے، دامن کو سمیٹ لیا ہے، امانت کے لیے اپنے نفس کو سنوار لیا ہے اور خدا کی پردہ پوشی کو گناہ گاری اور بد اعمالی کا ذریعہ بنایا ہے۔