Monthly Archives: April, 2012

Hazrat Ali’s quote # 230


دوست اور دشمن

ایک شخص اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے خود اپنا نقصان کرنے کو تھا کہ آپ نے فرمایا:

تمہاری تو وہ حالت ہے جیسے کوئی اپنے ہم نشین شُتر کو مارنے کے لیے اپنے اوپر نیزے مارے۔

Advertisements

Hazrat Ali’s quote # 229


دوست اور دشمن

دوست و دشمن‘ دونوں‘ تین طرح کے ہوتے ہیں۔ دوستوں کی قسموں میں تمہارے مخلص‘ دوست کے دوست اور دشمن کے دشمن اور دشمنوں کی اقسام میں تمہارے مخالف‘ دوست کے دشمن اور دشمن کے دوست۔

Hazrat Ali’s quote # 228


دوست اور دشمن

پچھلے زمانے میں راہِ خدا میں میرا ایک دوست (حضرت ابو ذر) تھا جو دنیا کو بے قدر سمجھتا تھا اور اس سے اس کی عظمت میری نگاہ میں بڑھ گئی تھی۔ اشتہا اس پر غالب نہ تھا۔ جو چیز میسر نہ ہوتی، اس کی خواہش نہ کرتا۔ جو کچھ مل جاتا، اس کو بڑھاتا نہ تھا۔ دن کے اکثر حصے میں خاموش رہتا۔ بولتا تو بولنے والوں کے لیے گفتگو کی گنجائش ختم کر دیتا۔ پوچھنے والوں کی پیاس بجھا دیتا۔ حق گوئی کا وقت آتا تو جنگل کا شیر اور صحرا کا اژدہا بن جاتا۔ جو دلیل بھی پیش ہوتی، وہ اس کا فیصلہ کر دیتا۔ کسی ایسی بات پر ملامت نہ کرتا جس پر عُذر کیا جاتا ہو، یہاں تک کہ غلط کار کی معافی بھی سن لیتا۔ کسی درد کی شکایت اس کے دور ہونے کے بعد کرتا (تاکہ کفرانِ نعمت نہ ہو)۔ کہتاا اتنا ہی جتنا کرتا اور جو کچھ نہ کرتا اس کو منہ سے نہ نکالتا تھا۔ اس کے بولنے پر غلبہ تو کر لیا جاتا تھا مگر اس کی خاموشی پر قبضہ نہ کیا جا سکتا۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کا شوقین تھا۔ اگر اسے کئی کام کرنا ہوتے تو وہ دیکھتا کہ اس کی خواہشِ سے زیادہ قریب کون سا ہے، جو قریب ہوتا، اسے چھوڑ دیتا۔

ان اخلاق و عادات کو تم بھی اپناؤ اور ان میں سے جو کچھ کر سکو وہ کرو۔ اگر تمہیں وہ درجہ نہ مل سکے تو سمجھ لو کہ تھوڑا حاصل کر لینا بہت چھوڑنے سے اچھا ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 227


دوست اور دشمن

 

قریب کے لوگ جسے چھوڑ دیتے ہیں، اسے دور والے اپنا لیتے ہیں۔

Hazrat Ali’s quote # 226


دوست اور دشمن

 

سب سے زیادہ عاجز و لاچار وہ شخص ہے جو دوست بنا نہ سکے اور اس سے زیادہ مجبور وہ ہے جو دوست بنا کر چھوڑ دے۔

Hazrat Ali’s quote # 225


اِقبال

 

جب تک قسمت ساتھ ہے، عیب چھپے ہوئے ہیں۔

Hazrat Ali’s quote # 224


اِقبال

رائے کی صحت و برتری کا انحصار اقتدار پر ہے۔ اقبال مندی کے زمانے میں جو رائے قابل قبول ہوتی ہے، اِدبار میں وہی مہمل بن جاتی ہے، خواہ کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہو۔

Hazrat Ali’s quote # 223


اِقبال

 

دنیا جب کسی قوم کی طرف جھکتی ہے تو دوسروں کی نیکیاں اسے دے دیتی ہے اور جب منہ پھیرتی ہے تو اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 222


عزّت و ذلّت

لالچ کرنے والا ذلت کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہے۔

Hazrat Ali’s quote # 221


عزّت و ذلّت

 

کوئی شرف اسلام سے اعلیٰ نہیں؛ کوئی عزت تقویٰ سے دقیع نہیں؛ کوئی حصار پرہیزگاری سے بہتر نہیں؛ کوئی شفیع توبہ سے زیادہ نجات دلانے والا نہیں؛ کوئی خزانہ قناعت سے بڑھ کر غنی نہیں؛ ضرورت کے بقدر روزی پا قائع رہنے سے زائد کوئی مال فقر و فاقہ کو دور کرنے والا نہیں۔ جو حسبِ ضرورت روزی پر صابر رہا، اس نے راحت کا انتظام کر لیا۔ دنیا سے رغبت کرنا رنج کھولنے کی کنجی ہے اور تعب کی سواری۔ حرص، تکبر اور حسد گناہوں میں آلودگی کی دعوت دینے والے ہیں۔ شر جامعُ العیوب ہے۔