Hazrat Ali’s quote # 228


دوست اور دشمن

پچھلے زمانے میں راہِ خدا میں میرا ایک دوست (حضرت ابو ذر) تھا جو دنیا کو بے قدر سمجھتا تھا اور اس سے اس کی عظمت میری نگاہ میں بڑھ گئی تھی۔ اشتہا اس پر غالب نہ تھا۔ جو چیز میسر نہ ہوتی، اس کی خواہش نہ کرتا۔ جو کچھ مل جاتا، اس کو بڑھاتا نہ تھا۔ دن کے اکثر حصے میں خاموش رہتا۔ بولتا تو بولنے والوں کے لیے گفتگو کی گنجائش ختم کر دیتا۔ پوچھنے والوں کی پیاس بجھا دیتا۔ حق گوئی کا وقت آتا تو جنگل کا شیر اور صحرا کا اژدہا بن جاتا۔ جو دلیل بھی پیش ہوتی، وہ اس کا فیصلہ کر دیتا۔ کسی ایسی بات پر ملامت نہ کرتا جس پر عُذر کیا جاتا ہو، یہاں تک کہ غلط کار کی معافی بھی سن لیتا۔ کسی درد کی شکایت اس کے دور ہونے کے بعد کرتا (تاکہ کفرانِ نعمت نہ ہو)۔ کہتاا اتنا ہی جتنا کرتا اور جو کچھ نہ کرتا اس کو منہ سے نہ نکالتا تھا۔ اس کے بولنے پر غلبہ تو کر لیا جاتا تھا مگر اس کی خاموشی پر قبضہ نہ کیا جا سکتا۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کا شوقین تھا۔ اگر اسے کئی کام کرنا ہوتے تو وہ دیکھتا کہ اس کی خواہشِ سے زیادہ قریب کون سا ہے، جو قریب ہوتا، اسے چھوڑ دیتا۔

ان اخلاق و عادات کو تم بھی اپناؤ اور ان میں سے جو کچھ کر سکو وہ کرو۔ اگر تمہیں وہ درجہ نہ مل سکے تو سمجھ لو کہ تھوڑا حاصل کر لینا بہت چھوڑنے سے اچھا ہے۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: