رمضان کی عظمت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں


رمضان کی عظمت و فضیلت
قرآن و حدیث کی روشنی میں
نماز، تراویح ، اعتکاف اور نفلی عبادات کا تذکرہ

دنیا میں دیدار جنت 
    حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ غافلوں میں ذکرِ خد اکی مثال ایسی ہے جیسی میدانِ جنگ سے بھاگ جانے والوں کے بعد کوئی جہاد کرنے والا ہو اور غافلوں میں ذکرِ خدا کی مثال ایسی ہے جیسے اندھیرے میں چراغ رکھا ہو ۔ اور غافلوں میں رہتے ہوئے خدا کی یاد میں مشغول رہنے والے کو اللہ زندگی ہی میں اس کا مقامِ جنت دکھا دے گا اور غافلوں میں خدا کی یاد کرنے والے کی مغفرت ہر فصیح اور ہر اعجم کی تعداد میں ہوتی ہے ۔ مشکوٰۃ ۔ فصیح سے جن اور اعجم سے جانور مراد ہیں۔

خدا کی بارگاہ میں تذکرہ
    حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں بندے کے گمان کے پاس ہو ں ۔ جو گمان وہ مجھ سے رکھے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھ کویاد کر تا ہے۔ سو اگر وہ مجھ کو تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کوتنہائی میں یاد کرتا ہوں اور جب مجھ کو جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کوجماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔( بخاری)
    ’’میں بھی اس کوتنہائی میں یاد کرتاہوں‘‘ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خود ہی اس کا ذکر کرتاہو‘ں فرشتوں کے سامنے اس کا ذکر نہیں کرتا اور یہ جو فرمایا کہ جماعت میں یاد کرتاہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی یعنی مقرب فرشتوںاور ارداحِ مرسلین میں اس کا تذکرہ کرتاہوں جو سب انسانوں سے بہتر اور افضل ہے ۔ ( غیبی)

’’میں بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں‘‘۔ اس کامطلب یہ ہے کہ میرے متعلق جو بندہ مغفر ت اور عذاب کا گمان کرتا ہے تو میں ایسا کرتا ہوں۔ اگر وہ گمان رکھتا ہے کہ خدامجھ کوبخش دے گا تو اس کو بخش دیتا ہوں اور اگر اس کے خلاف مان رکھتا ہے تو نہیں بخشتاہوں ( لمعات)
    ایک روز حضرت ثابت بنانی کہنے لگے کہ مجھ کو معلوم ہوجاتا ہے جب مجھ کومیرا خدایاد کرتا ہے۔ لوگوںنے پوچھا وہ کیسے؟ فرمایا جب میں اس کو یاد کرتا ہوں تو وہ مجھ کو یاد کرتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص بارگاہِ خدا وندی میں اپنا ذکر چاہے وہ خدا کا ذکر شروع کر دے ۔

تہجد گزار ی کے بدلے
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص تم میں سے رات کو جاگ کر تکلیف برداشت کرنے سے عاجز ہو اور ہر خرچ کرنے میں بخل کرتا ہو اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے بزدلی کرتا ہو اس کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر بہت کرے ۔( طبرانی)

بلا خرچ بالا تشین
    حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ایک شخص کی گود میں روپے ہوں جن کو وہ تقسیم کرتا ہو اور دوسرا شخص خدا کا ذکر کرتا ہو تویہ ذکرکرنے والا ہی کا افضل رہے گا ۔ (الترغیب )

بستر پر بلند درجے

    حضر ت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ بچھے ہوئے بستروں پر ضرو ر بالضرور ذکر اللہ کریں گے اور وہ ذکر ان کو بلند درجوں میں داخل کر دے گا۔ (ترغیب)

دیوانہ بن جاؤں
    حضرت رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خدا کا ذکر اس قدر زیادہ کرو کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگے ۔( ایضاء)

ریا کاری کی پرواہ نہ کرو:
    رحمت العالمین ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس قدر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ منافق لوگ تم کو ریا کار کہنے لگے ۔ (ایضاء)

نمبر لے گئے
    ایک مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ کامکہ شریف میں جمدان پہاڑوںپر گذر ہوا تو آپﷺ نے فرمایا چلو یہ جمدان ہے۔ آگے بڑھ گئے اپنے نفسوں کو تنہاکرنے والے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضرت تنہا کرنے والے کون ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہمیشہ یادِ خدا کی حرص کرنے والے اپنے نفسوں کو تنہا کرنے والے ہیں ۔ خدا کا ذکر ان کا بوجھ اتا ر دے گا۔ لہٰذا وہ ہلکے پھلکے میدا نِ حشر میں آئیں گے ۔ (ترمذی)
اپنے نفسوں کو تنہاکرنے والے یعنی اپنے ہم عصر لوگوں سے بالکل الگ رویہ رکھنے والے کہ سب لوگ تو دنیا ، بکواس ، بیہود ہ ، خرافات اور لایعنی باتوں میں مشغول ہوں مگر وہ لوگ صرف اللہ کی یاد میں وقت گذارتے ہیں ۔ (من المرقاۃ )

ندائے مغفرت
    حضور سرور ِ عالم ﷺ کا ارشا د ہے کہ جب کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہو جائیں اور ان کی غرض اس سے صرف رضائے خدا ہو تو خدا کا منادی آسمان سے آواز دیتا ہے کہ اٹھ جاؤ بخشے بخشائے اور میں نے تمہاری برائیوں کونیکیوں میں بدل دیا۔( ترغیب)

موتی کے منبر
    سردار دو جہاں ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ شانہ ضرور ایسے لوگوں کواٹھائے گا جن کے چہروں پر نور ہو گا اوروہ موتیوں کے منبروں پر بیٹھے ہو ں گے اور یہ حضرات نہ نبی ہو ں گے نہ شہیدہوں گے اور سب لوگ ا ن پر رشک کرتے ہوں گے ۔ یہ سن کر ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو زانوں بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ حضرت ان کے اوصاف بتا دیجیے تاکہ ہم ان کو پہچا ن لیں۔ آپ نے فرمایا یہ وہ حضرات ہوں گے جن میںکوئی رشتہ ناطہ نہ ہوگا اور جو مختلف قبیلوں اور مختلف شہروں کے ہوں گے اور اس کے باوجود اللہ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے ۔اور اللہ کی یادکے لیے جمع ہوا کرتے تھے ۔ (ترغیب )

خیر الدنیا والاخرۃ
    رحمت ِ کائنات حضرت رسولِ کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی دی گئی ہے وہ چار چیزیں یہ ہیں کہ ۱۔ شکر گزاردل ۲۔ خدا کا ذکر کرنے والی زبان ۳۔ بلا پر صبر کرنے والا بدن ۴۔ اور اپنے نفس اور اس کے حل کی حفاظت کرنے والی بیوی ( ترغیب)

صرف ایک چیز 
    حضرت عبداللہ بن بصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رسول خدا ﷺ سے عر ض کیا کہ یا رسول اللہﷺ اس کی چیزیں تو بہت ہیں جن کی ذمہ داری بھی مجھ پر بہت ہے ۔ اور سب کی ادائیگی بھی نہیں ہوتی لہٰذامجھ کو آپ ایک ہی چیز بتا دیجیے جس میں لگا رہو ۔ آپﷺ نے فرمایا تیری زباں ہمیشہ یاد الٰہی میں تر رہے ۔ (مشکوٰۃ )

جہاد سے افضل
    حضرت سرور عالم ﷺ سے کسی نے سوال کیا کہ قیامت کے روز خدا کے نزدیک کون شخص سب سے افضل اور سب سے بلند درجے والا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والا مرد اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں ۔ اس پر ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ کیا ذکر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے بھی افضل اور ارفع ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر جہاد کرنے والا اپنی تلوار سے کافروں اور مشرکوں سے اس قدر مارے کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ شخص یا تلوار خون میںرنگ جائے تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والاہی افضل رہے گا۔مشکوٰۃ شریف
    حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کابیان ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کو خطاب کر کے فرمایاکہ کیا تم کو تمہار ا وہ عمل نہ بتادوں جوتمہارے مالک خداوند ِ عالم کے نزدیک تمام اعمال سے بہتر اور پاکیزہ ہے اور جو تمہارے درجات کو سب اعمال سے زیادہ بلندکرنے والا ہے ۔ تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور جو اس سے بہتر ہے کہ تم دشمن سے بھڑ جاؤ اور ا ن کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں؟ صحابہ ؓ نے جواب میں عرض کیا کہ جی ارشاد فرمائیے ۔ آپﷺ نے فرمایا وہ عمل اللہ کا ذکر ہے جو ا ن سب سے اعلیٰ و افضل ہے۔ (ترمذی)

دنیا سے رخصت ہونے کے وقت
    حضرت عبداللہ بن بصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی صحابیؓ نے حاضر ہوکر سوال کیا کہ حضرت سب لوگوں سے بہترکون ہے؟ آپ نے فرمایا خوشی ہے کہ اس شخص کے لیے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھے ہو ں ۔ ان صاحب نے پھر عرض کیا کہ سب سے زیادہ کون سا عمل افضل ہے؟ آ پ نے فرمایا یہ کہ دنیا سے اس حالت میں جدا ہو کہ تیری زبان اللہ کے ذکر میں تر ہو۔( ترمذی شریف )

جنت کے باغیچے
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کابیان ہے حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے ارشاد فرمایا کہ جب جنت کے باغیچوں پر گذرو تو کھایا پیاکرو ۔ صحابہؓ نے عرض کیاکہ جنت کے باغیچے کون سے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ذکرکی مجلسیں ہیں اور  کھانے پینے کامطلب یہ ہے کہ ان باغیچوں میں جا کر باغیچوں والوں کے عمل میں شریک ہوں ۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: