فضائل ماہ رمضان المبارک


دین و دانش
فضائل ماہ رمضان المبارک
مرتبہ : خلیفہ عبدالرشید قادری ٹوبہ ٹیک سنگھ
صوم رمضان ( روزہ )

معنی و مفہوم :    روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں جس کی جمع صیام ہے ۔ صوم کا معنی کسی کام یا چیز سے رک جانا اور ترک کرنا ہے۔ شرعی اصطلاع میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک عبادت کی نیت کے ساتھ کھانے ، پینے اور جنسی تعلق سے پرہیز کرنے کا نام روزہ ہے۔
فرضیت و اہمیت :    ماہ رمضان کے روزے ہر عاقل ، بالغ ، مقیم ، مردوزن مسلم پر فرض ہے۔ ارشاد باریٰ تعالیٰ ہے:    ترجمہ: اے ایمان والوتم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیز گار بنو۔
دوسری جگہ فرمایا:

   ترجمہ : تم میں سے جو شخص اس مہینے ( رمضان ) کو پائے تو وہ اس میں روزہ رکھے‘ روزہ کی فرضیت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزوں کی فضیلت میں آپ ؐ نے فرمایا :
ترجمہ :  اسلا م کی عمارت پانچ ارکان پر تعمیر کی گئی ہے اس شہادت پر کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بند ے اور اس کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کر نے‘ زکوٰۃ دینے‘ رمضان کے روزے رکھنے پر اور حج کرنے پر۔
٭    (مسلم ) روزہ ڈھال ہے۔
٭    جس نے ایمان کے ساتھ اور اجرو ثواب کی نیت سے رمضان کے
روزے رکھے اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
٭    روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے پرور دگار سے ملاقات کے وقت ۔
٭    روزہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : روزہ میرے لیے اور  اس کی جزاء میں خود دوں گا ۔
رخصتیں :
۱۔    اگر کوئی شخص بیمار ہو اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو یا روزہ رکھنے سے اس مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو اسے رخصت ہے کہ روزہ نہ رکھے اور رمضان کے بعد کسی مناسب وقت پر اس کی قضا کرے۔
۲۔    سفر میں روزے کی رخصت ہے بشرطیکہ سفر کم از کم تین منزل یعنی 48میل 77کلو میٹر کی مسافت کا ہو اور منزل پر پندرہ دن سے زیادہ قیام کا ارادہ نہ ہو سفر میں جتنے روزے رہ جائیں ان کی قضا بعد میں کرنا ہوگی۔
۳۔     عمر رسیدہ اور کمزور آدمی کو چاہیے کہ اگروہ روزہ نہ رکھے تو اس کی جگہ فدیہ ادا کرے ۔ فدیہ یہ ہے کہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو دووقت کاکھانا کھلانے کے برابر جنس دے دے۔
۴۔    بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو رخصت ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھے تاکہ بچے کے لیے دودھ میں کمی واقع نہ ہو۔ رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کرے۔
مقصد صوم:
    روز ے کا مقصد اور اس کی غرض وغایت تقویٰ ہے۔ قرآن مجید میں یہی مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ روزے کی حالت میں خصوصی طور پر ہر طرح کی برائی سے اجتناب کرے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے ۔ اس کا روزہ بھوک و پیاس کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔
روزہ کے فوائد و ثمرات
روز ہ انسان میں درج ذیل فوائد و ثمرات پیدا کرتا ہے۔
1) تقوی:    اللہ تعالیٰ نے فرضیت صوم کا مقصد ہی پرہیز گاری بیان فرمایا ہے ۔ روزے میں انسان کے لیے ممنوع اور حرام چیزیں تو کیا بعض حلال چیزیں بھی منع ہو جاتی ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد انسان ان ممنوع اور حرام چیزوں سے خود کو بچا کے رکھتا ہے گویا خواہشات نفس کو روکنے کی یہ تربیت روزے دار میں پرہیز گاری پیدا کرتی ہے۔
2) ضبط نفس :    روزے سے انسان میں ضبط نفس کا جذبہ پیدا ہو تا ہے غصہ کے باوجود لوگوں سے لڑائی یا جھگڑا کرنے سے پرہیز کر تا ہے۔ ضبط نفس کی یہ ترغیب انسان کے لیے دینی اور دنیوی امور میں کامیابی کی ضامن ہوتی ہے۔

3) اخلاص :    روزہ واحد عبادت ہے جو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان راز کی صورت میں ہوتی ہے ۔ نہ اس میںد کھاوا ہو تا ہے ۔ نہ ریاکاری ، یہی اخلاص عبادات کا مغز ہو تا ہے ۔ روزے میں یہ اخلاص انسان کی یہ علمی سبق دیتا ہے کہ وہ ہر کام اخلاص اور حسن نیت سے انجام دے اور شیطان کی فریب کاری سے خود کو محفوط رکھے۔
4)ہمدردی و غم خواری :    روزہ سے انسان بھوک اور پیاس خود برداشت کرتا ہے ۔ اس لیے اسے غرباء کی محرومیوں کا احساس ہو تا ہے ۔ اس لیے اس کے اندر غریبوں سے ہمدردی اور غم خواری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
5)طبی فوائد:    روزے سے انسان کو پیٹ کی کئی بیماریوں سے نجات ملتی ہے کیونکہ پیٹ کی متعدد بیماریاں بسیار خوری سے پیدا ہوتی ہیں۔ روزے رکھنے سے وزن کم ہو تا ہے ۔ اور بھی کئی طبی فوائد حاصل ہو تے ہیں۔
6) حاکمیت الہیہ کا یقین:     روزے میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا تصور پختہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ انسان چھپ کر بھی اس لیے نہ کھاتا ہے اور پیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بارے اس تصور کی پختگی انسان کو بہت سے گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
قبولیت دعا :    روزے دار سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہو تا ہے ۔ اس لیے اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ افطار کے وقت روزے دار کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
8) اجر عظیم :     تمام عبادات میں روزہ وہ عبادت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ میں خود اس کی جزاء دوں گا یا میری زیارت اس کی جزاء ہے ۔ یہ اجر کسی دوسری عبادت کا نہیں۔
9) شفاعت :     قیامت کے دن رمضان ان اشخاص کی شفاعت کرے گا۔ جنہوں نے اس ماہ میں روزے رکھے ہوں گے ۔ ارشاد نبوی ہے کہ رمضان اور قرآن دونوں شفاعت کریں گے۔ نماز کہے گی: ’’اے رب ! اس شخص کے بارے میں میری سفارش قبول کر ، اور قرآن کہے گا کہ میں نے اس کو رات میں سونے سے روکا ، اپنی میٹھی نیند چھوڑ کر نماز میں قرآن پڑھتا رہا )تو اے خدا ! اس شخص کے بارے میں میری سفارش قبول کر ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔

رمضان المبار ک کی فضیلت
رمضان کے مہینے میں قرآن حکیم نازل کیا گیا ۔ اس ماہ میں ایک رات ہے جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں جس میں کی گئی عبادت ایک ہزار مہینو ں کی عبادت سے افضل ہے ۔ پاکستانی مسلمانوں کے لیے اس ماہ مبارک کی ایک خصوصی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس ماہ کی ستائیسویں شب کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور ہمیں آزادی نصیب ہو ئی۔
ایام اعتکاف :    عبداللہ ابن عمر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے ‘‘ یوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ خدا کی بندگی میں لگے رہتے ۔ لیکن رمضان میں آپ کا ذوق و شوق اور بڑھ جاتا ، اور اس میں بھی آخر ی دس دن تو بالکل اللہ کی عبادت میں گزارتے ، مسجد میں جا بیٹھتے ، نفل نماز اور قرآن کی تلاوت اور ذکر و دعا میں لگے رہتے اور ایسا اس لیے کرتے کہ رمضان کا مہینہ مومن کی تیاری کا زمانہ ہوتا ہے ، تا کہ گیارہ مہینے شیطان اور شیطانی طاقتوں سے لڑنے کے لیے قوت فراہم ہو جائے۔
رمضان کا آخری عشرہ :
    ’’ حضر ت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال یہ تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو راتوں کو زیادہ سے زیادہ جاگ کر عبادت کرتے ، اور اپنی بیویوں کو جگاتے ( تاکہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ جاگ کر نوافل اور تہجد پڑھیں ) اور خدا کی عبادت کے لیے آپ تہبند کس کے باندھتے ( یہ محاورہ ہے مطلب یہ کہ پورے جوش اور انہماک کے ساتھ عبادت میں لگ جاتے )‘‘
روزہ کی روح :    ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے ( روزہ رکھنے کے باوجود ) جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔ ‘‘
    یعنی روزہ رکھوانے سے اللہ تعالیٰ کو مقصود انسان کو نیک بنانا ہے ، اگر وہ نیک ہی نہ بنا اور سچائی پر اس نے اپنی زندگی کی عمارت نہیں اٹھائی ، رمضان میں بھی باطل اور ناحق بات کہتا اور کرتا رہا اوررمضان کے باہر بھی اس کی زندگی میں سچائی نہیں دکھائی دیتی تو ایسے شخص کو سوچنا چاہیے کہ وہ آخر کیوں صبح سے شام تک کھانے اور پینے سے رکا رہا ۔ اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ روزہ دار کو روزہ رکھنے کا مقصد اور اس کی اصل روح سے واقف ہو نا چاہیے۔اور ہر وقت اس بات کو ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ کیوں کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے۔
    ’’ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے، کتنے ہی ( بد قسمت ) روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے سوائے بھوک ، پیاس کے کچھ نہیں حاصل ہو تا اور ( کتنے ہی روزہ کی رات میں ) تراویح پڑھنے والے ہیں جن کو اپنی تراویح میںسوائے جاگنے کے اور کچھ نہیں ہاتھ آتا ۔ ‘‘
    یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح یہ سبق دیتی ہے کہ آدمی کو روزہ کی حالت میں روزہ کے مقصود کو سامنے رکھنا چاہیے ۔
گناہوں کا کفارہ ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ
    حضرت حذیفہ ؓ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ آدمی جو کچھ اپنے گھر والوں اور مال اور پڑوسی کے سلسلے میں غلطی کرتا ہے ، نماز ، روزہ اور صدقہ ان غلطیوں کا کفارہ بنتے ہیں۔ ‘‘
    مطلب یہ کہ آدمی اپنے بیوی بچوں کی خاطر گناہ میں پڑ جاتا ہے ، اسی طرح تجارت میں اور پڑوسیوں کے سلسلے میں بالعموم کوتاہی ہو جاتی ہے تو ان عبادات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کوتاہیوں کو معاف فرمادے گا ( بشرطیکہ گناہ جان بوجھ کر نہ کیے گئے ہوں، بلکہ ہو گئے ہوں۔ )
ریا سے پرہیز :    ’’ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ارشاد فرمایا، آدمی جب روزہ رکھے تو چاہیے کہ تیل لگائے اس پر روزہ کا اثر و نشان دکھائی نہ دے‘‘۔ حضرت کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کو چاہیے کہ اپنے روزہ کی نمائش سے بچے ۔ نہا دھو لے ، تیل لگالے تاکہ روزہ کی وجہ سے پید ا ہونے والی سستی اور اصمحلال دور ہو جائے اور ریا کے پیدا ہونے کا دروازہ بند ہو جائے ۔
سحری کی تاکید :        ’’ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا ، سحری کھالیا کرو ، اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ ‘‘ مطلب یہ ہے کہ سحری کھاکر روزہ رکھو گے تو دن آسانی سے کٹے گا ۔ خدا کی عبادت اور دوسرے کاموں میں کمزوری اور سستی نہ آئے گی ۔ سحری نہ کھائو گے تو بھوک کی وجہ سے سستی اور کمزوری آئے گی ۔ عبادت میں جی نہ لگے گا اور یہ بڑی بے برکتی ہو گی۔
    ترجمہ : دن کو روزہ رکھنے میں سحری سے مدد لو اور تہجد کے لیے اٹھنے میں دن کے قیلولے سے مدد لو )

تعجیل فی الافطار کی تاکید :        سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا، لوگ ( یعنی مسلمان ) اچھی حالت میں رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے‘‘۔ مطلب یہ کہ یہود کی مخالفت کرو۔ وہ اندھیرا چھا جانے کے بعد روزہ کھولتے ہیں تو اگر تم افطار سورج ڈوبتے ہی کرو گے اور یہود کی پیروی نہ کرو گے ، تو یہ اس بات کی دلیل ہو گی کہ تم دینی لحاظ سے اچھی حالت پر ہو۔
صدقہ فطر کا مقصد : 
    ترجمہ : ’’ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فطر کی زکوٰۃ کو امت پر فرض (واجب) کیا، تاکہ وہ ان بیکار اور بے حیائی کی باتوں سے جو روزہ کی حالت میں روزہ دار سے سر زد ہو جاتی ہیں کفارہ بنے اور غریبوں مسکینوں کے کھانے کا انتظام ہوجائے۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ صدقہ فطر جو شریعت میں واجب کیا گیا ہے اس کے اندر دو مصلحتیں کام کر رہی ہیں ، ایک یہ کہ روزہ دار سے روزہ کی حالت میں باوجود کوشش کے جو کوتاہی و کمزوری رہ جاتی ہے اس مال کے ذریعہ اس کی تلافی ہو جاتی ہے ، اور دوسر ا مقصد یہ ہے کہ جس دن سارے مسلمان عید کی خوشی منا رہے ہوتے ہیں اس دن سوسائٹی کے غریب لوگ فاقہ سے نہ رہیں بلکہ ان کی خوراک کا کچھ نہ کچھ انتظام ہو جائے ۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ گھر کے سارے ہی لوگوں پر فطرہ واجب کیا گیا ہے ۔ اور نماز عید سے پہلے دینے کی تاکید آئی ہے۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: