رمضان المبارک کے آخری دو عشروں میں روحانیت حاصل کرنے کے لئے خاص طریقہ کار اختیار کیجئے۔


رمضان المبارک کے آخری دو عشروں میں  روحانیت حاصل کرنے کے لئے  خاص طریقہ کار اختیار کیجئے۔
از پروفیسر مقصود احمد قادری گوجرہ۔

رمضان المبارک کے آخری دو ۲ عشروں کا پروگرام:
رمضان کی دس تاریخ تک ہمیں اس بات کی عادت ہو جاتی ہے کہ ہم ان حواس کی گرفت کو توڑ سکیں جو گیارہ مہینے ہمارے اوپر مسلط رہے ہیں۔ رمضان کے پہلے عشرہ میں بھوک ‘ پیاس‘ نیند‘ گفتگو میں احتیاط اور قرآن پاک کی تلاوت سے کافی حد تک ظاہری حواس ہماری گرفت میں آجاتے ہیں۔ محض اﷲ کی خوشنودی کے لئے پورے دن کھانا نہ کھانا ‘ شدید تقاضے کے باوجود پانی نہ پینے اور افطاری و سحری کے درمیان چند گھنٹے سونے سے پہلے ہمارے اندر ایک ایسی طاقت پیدا ہوجاتی ہے جو ہمیں رات کے حواس او رروح کے قریب کردیتی ہے۔ دس (۱۰) روزے رکھنے کے بعد اگر ہم کوشش کریں تو بہت آسانی کے ساتھ روح کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرسکتے ہیں۔
گیارھواں (۱۱) روزہ:
دسویں روزے کے بعد چوبیس میں چھ گھنٹے سے زیادہ نہ سوئیں۔
بارھواں (۱۲)روزہ :

    بارھویں ‘ تیرھویں اور چودھویں روزوں میں نیند کا وقفہ بجائے چھ کے پانچ گھنٹے کر دیں۔ کھانے میں یہ احتیاط کریں کہ سحر و افطار میں کھانا اتنا کھائیں کہ جو معدے کے لئے گرانی کا باعث نہ بنے۔
پندرھواں (۱۵) روزہ:
پندرھویں روزے میں سحر ا افطار میں کھانا بھوک رکھ کر کھائیں اور کھانوں میں زیادہ مرغن اور ثقیل چیزیں استعمال نہ کریں۔ نیند کا وقفہ کم کر کے ساڑھے چار گھنٹے کردیں۔
سولہواں (۱۶) روزہ:
سولہویں روزے میں سحری نہ کھائیں۔ صرف دودھ یا چائے پئیں۔ افطار ایک یا دو کھجور اور دودھ سے کریں۔ پھلوں کا رس پی لیں۔ لیکن ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ تراویح کے بعد سحری تک درود خضری پڑھتے رہیں۔
سترھواں (۱۷) روزہ:
ہلکی سی سحری کھاکر فجر کی نماز باجماعت ادا کر کے چار گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ دن بھر کام میں مشغول رہیں اور یاحیی یا قیوم کا ورد کرتے رہیں۔ افطار میں صرف پھلوں کا رس اور دودھ پئیں۔ ٹھوس غذا بالکل استعمال نہ کریں۔ تراویح پڑھنے کے بعد درود خضری پڑھتے پڑھتے سو جائیں اور سحری کے وقفہ تک سوتے رہیں۔
اٹھارھواں (۱۸) روزہ:
سحری میں ہلکی اور رود ہضم غذا مثلاً دلیہ ‘ توس ‘ سوجی کا ہریرہ وغیرہ استعمال کریں اور پورے دن کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے یاحیی یاقیوم کا ورد کرتے رہیں۔
انیسواں (۱۹) روزہ:
۱۹ رمضان کو سحر میں اتنی غذا استعمال کی جائے جو طبیعت میں کسی قسم کا تکدر پیدا نہ کرے اور افطار میں چند کھجوریں اور دودھ استعمال کیا جائے۔ پانی کم مقدار میں پیا جائے۔ تراویح کے بعد درود خضری پڑھتے رہیں اور سحری تک چار گھنٹے کے لئے سو جائیں۔
بیسواں (۲۰) روزہ:
۲۰ رمضان کو سحری میں صرف ایک یا دو ڈبل روٹی کے ٹوسٹ یا دلیہ دودھ کے ساتھ کھا کر روزہ کی نیت کرلیں۔ دن میں معاش کے کاموں کے علاوہ پورے وقت کلمہ تمجید (تیسرا کلمہ) پڑھتے رہیں۔ افطار کے وقت ہلکی غذا کھائیں‘ پانی کم پئیں۔ مغرب کی نماز کے بعد عشاء کی نماز تک درود خضری پڑھتے رہیں۔ اور تمام رات جاگتے رہیں۔ پوری رات تلاوتِ قرآن پاک‘ تیسرا کلمہ‘ درودِ خضری اور نوافل پڑھتے رہیں۔

رمضان المبارک کے بیس (۲۰) روزوں میں ظاہراً عمل اور ظاہراً حواس کے ترک سے انسان اس وقتِ رفتار سے قریب تر ہو جاتا ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں اس رفتار میں مزید اضافہ کرکے اس غیب کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ جس کو اﷲ تعالیٰ نے لیلۃ القدر فرمایا ہے۔
اکیسواں (۲۱) روزہ:
۲۱ رمضان کی سحری میں برائے نام غذا کھا کر فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد تین گھنٹے پینتالیس (۴۵:۳) منٹ کے لئے سو جائیں ۔ بیدار ہونے کے بعد ضروری کاموں کے علاوہ تیسرا کلمہ اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے رہیں۔ افطار میں ایک گلاس پانی‘ کم مقدار میں پھل اور چائے کے علاوہ کوئی چیز نہ کھائیں۔ افطار کے بعد سے علاوہ نماز کے رات کو ۲ بجے تک درود خضری پڑھتے رہیں۔ تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد اندھیرے میں لکڑی کی چوکی پر قبلہ رخ ہو کر نماز کی طرح نیت باندھ لیں۔ آنکھیں بند کر کے ’’یا مرید یا ودود یااﷲ ‘‘ کی تسبیح پڑھیں اور اﷲ تعالیٰ سے لیلۃ القدر کے فیوض و برکات حاصل ہونے کی دعا کریں۔ اس کے بعد درودخضری کا ورد کرتے رہیں اور ڈھائی گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ اگر لکڑی کی چوکی میسر نہ ہو تو جانماز سے کام چلالیں۔
بائیسواں (۲۲) روزہ:
۲۲ رمضان کی ہلکی سحری کھا کر روزہ رکھ لیں۔ پورے دن عبادت میں مصروف رہیں۔ ایک کھجور سے افطار کریں اور مغرب کی نماز کے بعد آدھے پیٹ سے کم کھانا کھائیں۔ گزشتہ شب کی طرح کلمہ تمجید کا ورد رکھیں اور نوافل پڑھیں۔ دو بجے چوکی پر کھڑے ہو کر مذکورہ بالا تسبیح پڑھیں اور جاگتے رہیں۔
تئیسواں (۲۳) روزہ:
۲۳ رمضان کو تھوڑی سی سحری کھا کر فجر کی نماز کے بعد تین گھنٹے کے لئے سو جائیں۔ بیدار ہونے کے بعد سارے دن عبادت میں مصروف رہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور کلمہ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ افطار ایک کھجور سے کریں اور غذا کم سے کم کھائیں۔ پوری رات گزشتہ رات کی طرح گزار دیں۔
چوبیسواں (۲۴) روزہ:
۲۴ رمضان کو سحری میں ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ دلیہ‘ دودھ یا سوجی کا ہریرہ استعمال کریں اور فجر کے بعد دو گھنٹے کے لئے سو جائیں۔ دو گھنٹے سے زیادہ نہ سوئیں۔ الارم لگالیں یا کسی اور ذریعہ سے جاگ اٹھیں۔
پورے دن قرآن پاک کی تلاوت اور کلمہ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ افطاری میں ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ پھل یا دلیہ استعمال کریں۔ حسب معمول کلمہ تمجید اور درود خضری کا ورد کرتے رہیں۔ دو بجے رات کو تہجد کی نماز کے بعد لکڑی کی چوکی پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر ’’یا مرید یا ودود یااﷲ ‘‘ کی تسبیح پڑھیں۔
پچیسواں (۲۵) روزہ:
ہلکی سی سحری کھا کر فجر کے بعد دو گھنٹے کے لئے سو جائیں۔ دن بھر کلمہ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ افطار میں پھل یا دلیہ استعمال کریں اور آدھی رات کے بعد سو جائیں۔
چھبیسواں (۲۶) روزہ:
۲۶ رمضان کو ہلکی سی سحری کھائیں۔ یہ روزہ بھی کاروبارِ معاش کے علاوہ تمام وقت کلمہ تمجید پڑھنے میں گزاریں۔ اس روزہ کی افطاری میں ایک کھجور‘ ایک دودھ اورپانی کے علاوہ کوئی چیز استعمال نہ کریں۔
اب یہ رات ستائیسویں ۲۷ ویں شب ہے:

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: