انوار و تجلیاتِ لیلۃ القدر


انوار و تجلیاتِ لیلۃ القدر
پروگرامِ شبِ قدر
از خلیفہ غلام علی قادری ایم۔ اے۔ ایم۔ ایڈ۔

نوٹ:عام طور پر 27 ویں شب رمضان المبارک کو مسلم عوام شب قدر تصور کرتے ہیں۔
مضمون اسی چیز کو پیش نظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔ (ادارہ)
سورۃ القدر

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝    لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۝  تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْر۝  سَلٰمٌ    ڕهِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۝

لیلۃ القدر کے معنی
قدر کے ۲ معنی ہیں:

۱)    اندازہ کرنا‘ وقت معین کرنا اور فیصلہ کرنا یعنی لیلۃ القدر وہ رات ہے جس میں خدا ہر چیز کا صحیح اندازہ فرماتا ہے اس کا وقت معین کرتا ہے۔ احکام نازل فرماتا ہے اور ہر چیز کی تقدیر مقرر فرماتا ہے۔

فَیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکَیْمٍ . اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِنَا

اس رات میں تمام معاملات کے نہایت محکم فیصلے صادر کئے جاتے ہیں ہمارے ہا ں سے حکم ہو کر۔
۲)    قدر کے دوسرے معنی عظمت اور بزرگی کے ہیں یعنی لیلۃ القدر وہ رات ہے جس کو خدا کے نزدیک بڑی عظمت اور فضیلت حاصل ہے اور اس کی قدر و عظمت کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ خدا نے اس میں قرآن جیسی عظیم نعمت نازل فرمائی۔ اس سے زیادہ عظیم تر نعمت کا نہ انسان تصور کرسکتا ہے اور نہ آرزو۔ اسی خیروبرکت اور عظمت و فضیلت کی بنا پر قرآن نے اس کو ایک ہزار مہینوں سے زیادہ افضل قرار دیا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
    ’’بلا شبہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر معاملہ لیکر حاضر ہوتے ہیں یہ رات سراسر سلامتی ہے‘ وہ یعنی اس کی خیروبرکت فجر تک رہتی ہے‘‘۔
    حضرت ابن عباسؓ سے ایک طویل روایت میں منقول ہے کہ جس رات شب قدر ہوتی ہے حق تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کو (زمین پر اترنے) کا حکم دیتے ہیں چنانچہ وہ فرشتوں کے بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے۔ جس کو کعبہ کے اوپر لگا دیتے ہیں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سو بازو ہیں جن میں سے دو بازؤں کو اسی رات میں کھولتے ہیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ جو مسلمان آج کی رات میں کھڑا ہو یا بیٹھا ہو ‘ نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کررہا ہو اس کو سلام کریں اور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں۔ صبح تک یہی حالت رہتی ہے جب صبح ہو جاتی ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعت اب کوچ کرو اور چلو! فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور  ﷺ کی امت کے ایمانداروں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا؟ وہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرمایا۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اﷲ  ﷺ ! وہ چار شخص کون ہیں؟ آپ  ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

ایک شخص وہ ہے جو شراب کا عادی ہے۔ 
دوسرا وہ جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ 
تیسرا وہ شخص ہے جو قطع رحمی کرنے والا ہو یعنی رشتے داروں سے قطع تعلقی کرتا ہو۔ 
چوتھا وہ جو کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق رکھنے والا ہو۔

شب قدر کی فضیلت ‘ علامات اور تواریخ:ـ
    رمضان المبارک سے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے اور اس ماہ کے اخیر عشرہ میں اﷲ کی تجلی کا دیدار ہوتا ہے۔ اس عشرہ میں شب قدر ہے جو بڑی بابرکت رات ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرُٗ’‘ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ

    یعنی شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ہزار فرشتوں کے ۸۳ سال اور چار مہینے ہوتے ہیں پھر شب قدر کو ہزار مہینوں کے برابر نہیں بتایا بلکہ ہزار سے بہتر بتایا۔ ہزار مہینوں سے شب قدر کس قدر بہتر ہے اس کا علم اﷲ ہی کو ہے۔ مومن بندوں کے لئے شب قدر بہت ہی خیروبرکت کی چیز ہے۔ ایک رات جاگ کر عبادت کرلیں اور ہزار مہینوں سے زیادہ عبادت کا ثواب پالیں۔
    حضرت عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اکرم  ﷺ سے شب قدر کے متعلق دریافت کیا تو آپ  ﷺ نے ارشاد فرمایا: شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے۔ ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷، ۲۹  یا رمضان کی آخری رات میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس رات میں عبادت کرے اس کے سب پچھلے گناہ صاف ہو جاتے ہیں اور شب قدر کی علامات میں سے یہ علامت ہے کہ وہ رات کھلی ہوئی چمکدار ہوتی ہے‘ صاف شفاف‘ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی‘ بلکہ متعدل گویا کہ اس میں (انوار کی کثرت سے) چاند کھلا ہوتا ہے۔ اس رات صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے نیز اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ایسا بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس دن کے آفتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے روک دیا۔
    شب قدر کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ لہذا رمضان کی ۲۱ویں، ۲۳ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کا خاص اہتمام کریں۔

حدیث شریف سے روایت:
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم  ﷺ نے فرمایا ’’جس نے لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ (بخاری۔ مسلم)
    حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رمضان آیا تو رسول اکرم  ﷺ نے فرمایا ـ یہ جو مہینہ تم پر آیا ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو (ودر و منزلت کے اعتبار سے) ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس (کی سعادت حاصل کرنے) سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا نیز فرمایا    لیلۃ القدر کی سعادت سے صرف بدنصیب ہی محروم کیا جاتا ہے۔
    حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ’’رسول اﷲ  ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں باقی دنوں کی نسبت عبادت میں بہت زیادہ کوشش فرماتے تھے‘‘۔ (بخاری)
شب قدر کا پروگرام
    رمضان المبارک میں سحر اور افطار پوری قوم ایک ساتھ کرتی ہے۔ رمضان المبارک میں اجتماعی پروگرام کرنے سے انوار و تجلیات کا نزول زیادہ ہوتا ہے اور بارگاہ الہیٰ میں اجتماعی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ شب بیداری کرنے سے پہلے غسل کرکے صاف ستھرا لباس پہنیں۔ سفید لباس زیادہ مناسب ہے۔ عمدہ قسم کی خوشبو لگائیں۔ گھر میں یا مسجد میں جہاں لوگ جمع ہوں اگربتی ‘ لوبان اور بخور جلائیں۔ صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے۔ دنیاداری کی باتیں نہ کریں۔ صرف عبادت میں دل لگائیں۔
شب قدر کا اجتماعی پروگرام حسب ذیل ہے:

بعد از تراویح درود خضری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۳۳۳ بار 
کلمہ طیبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۳۳ بار 
یاحیی یاقیوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۳۳ بار 
سورۃ یس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱بار 
سورۃ رحمٰن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱ بار 
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱ بار 
و علی آلک یاحبیب اﷲ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰ مرتبہ 
یاحیی یا قیوم کا ورد جاری رکھیں۔ رات 2 بجے کے قریب دوبارہ وضو کر کے تازہ دم ہو جائیں۔ 
صلوٰۃ تہجد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲ دو بجے شب
ترکیب نماز :  کل بارہ رکعت ہیں۔ دو  دو  رکعت کر کے ادا کریں پہلی رکعت میں الحمد شریف کے بعد دو  دفعہ سورۃ القدر پڑھیں دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کریں۔
تیسری رکعت میں ۳ دفعہ سورۃ قدر پڑھیں اور چوتھی میں چار دفعہ اس طرح ہر رکعت میں تعداد بڑھاتے جائیں یہاں تک کہ بارہویں رکعت میں بارہ دفعہ سورۃ القدر پڑھیں۔ نماز تہجد سے فارغ ہو کر بارہ مرتبہ درود خضری پڑھیں۔
پھر ایک مرتبہ درود ابراہیمی پڑھیں اور چاروں قل شریف پڑھیں پھر سورۃ بقرہ کی آخری تین آیات پڑھیں۔ 
سورۃ مزمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ 
یا وہاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰ مرتبہ 
یا بدیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰ مرتبہ 
یاحیی یاقیوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سحری تک پڑھتے رہیں۔ سحری کریں اور نماز فجر ادا کریں۔ 
نماز فجر کے بعد تیسرا کلمہ  ۱۱  مرتبہ 
درود خضری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۰۰ مرتبہ 
پندرہ منٹ کا مراقبہ کریں۔
مراقبہ کا طریقہ شجرہ شریف احمد حسینیہ منڈیر شریف سیّداں میں دیکھیں۔

 

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: