احکام عیدالفطر اور صدقہ فطر


احکام عیدالفطر  اور  صدقہ فطر
از : خلیفہ محمد سعید مرزا قادری

غریبوں کی بھی خبرداری کرو:
    اس خوشی کے دن یعنی روزِ عید میں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں غربا و مساکین کا خیال رکھنے کی بھی تعلیم دی اور غریبوں‘ یتیموں اور مسکینوں کو بھی اس خوشی میں شریک کرنے کے لیے صدقۂ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار افراد جو اپنی ناداری کے باعث اس روزِ سعیدکی خوشی نہیں منا سکتے ۔ وہ بھی خوشی منائیں۔

عید الفطر کے احکام:
    عیدالفطر کے دن بارہ چیزیں مسنون ہیں:

۱۔    شروع کے موافق آرائش کرنا
۲۔    غسل کرنا ، مسواک کرنا
۳۔    عمدہ کپڑے جو پاس موجودہوں
۴۔    خوشبو لگانا
۵۔    صبح سویرے اٹھنا
۶۔    عید گاہ سویرے جانا
۷۔    عیدگاہ جانے سے قبل کوئی شیریں چیز کھانا
۸۔    عیدگاہ جانے سے قبل صدقہ فطر دینا
۹۔    عید کی نماز کے لیے عید گاہ میں جانا بلا عذر اپنے محلے کی مسجدمیں  نہ پڑھے ۔
۱۰۔    جس راستے سے جائے اس کے علاوہ دوسرے راستے سے واپس آئے ۔
۱۱۔    پیدل جانا
۱۲۔    اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا

عید الفطر کی نماز :
عید الفطر کی نماز پڑھنے کا طریقہ یوں ہے :
۱۔    اول یوں نیت کرے
    ’’ میںدو رکعت واجب عید الفطر مع چھ زائد تکبیروں کے ادا کرتاہوں ،منہ طرف کعبہ شریف ، پیچھے اس امام کے ‘‘
۲۔    پھر یہ نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ باندھ لے اور سبحانک اللھم سے لا الہ غیرک تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور پہلی، دوسری تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑ دے مگر تیسری تکبیر کے بعدہاتھ باندھ لے اور امام صاحب قرأت شروع کرے اور مقتدی خاموش کھڑے رہیں اور حب دستور رکوع اور سجدہ اداکریں ۔ پھر جب دوسری رکعت میں امام صاحب قرأت کر چکے تو تین تکبیریں پہلے کی طرح ہیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ چھوڑ دے اور پھر ہاتھ اٹھائے بغیر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور پھر سجدہ ادا کرنے کے بعد سلام پھیر لیں ۔

عیدکا خطبہ :
    نماز ادا کرنے کے بعد عیدین کا خطبہ سنت ہے اور حاضرین پر اس کا سننا واجب ہے ۔ اس وقت بولنا ،نماز پڑھنا وغیرہ حرام ہے ۔ عید کے روز باہم ایک دوسرے کو مبارک باد دینا مستحب ہے اگر عید کے روز واقع ہو تو دونوں کی نماز لازم ہے اول واجب اور دوسری نماز فرض ہے۔

صدقہ فطر:
    حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض کیا ہے روزے کے بے فائدہ اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے واسطے اور مساکین کو کھلانے کے واسطے ۔ ( ابو دائود )
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ( صدقہ فطر ) ایک صاع گیہوں کا دو شخصوں کی طر ف سے ہے ۔ چھوٹا ہو یا بڑا ، آزاد ہو یا غلام ،مرد ہو یا عورت سب کی طرف سے نصف نصف صاع ہے ۔ تم میں جو غنی ہو اس کو اللہ تعالیٰ پاک کردیتاہے ( صدقہ فطر ادا کرنے کی وجہ سے ) اور تم میںجوفقیر ہو ( اور پھربھی صدقہ فطردیدے ) تو اس کو  اسکے دینے سے بھی زیاد ہ عطا فرما دیتا ہے۔ ( ابو دائود )
    صدقہ فطر صاحبِ نصا ب پر جیسا اپنی طرف سے واجب ہے اس طرح باپ کے ذمہ اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی واجب ہے ۔ گو وہ کتنے ہی چھوٹے ہوں۔

صدقہ فطر واجب ہے:
    حضرت سیدنا عمر و بن شعیب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جاکر مکہ معظمہ کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو کہ ’’ صدقہ فطر واجب ہے‘‘
    حضرت سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مدنی سرکار غریبوں کے غم خوار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ فضول اور بیہودہ کلام سے روزوںکی طہارت (یعنی صفائی ) ہو جائے ۔ نیز مساکین کی خورش (یعنی کھانا ) بھی ہو جائے ۔        (ابو دائود ۔ابن ماجہ )

صدقہ فطر کے متفرق آداب:
۱۔    صدقہ فطر ہر اس مسلمان مرد و عورت پرواجب ہے جو صاحب نصاب ہوں اور ان کی نصاب ’’ حاجات اصلۃ‘‘ یعنی ضروریات زندگی سے فارغ ہو۔
۲۔    جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاند ی ہو ( اور یہ سب حاجات ِ اصلیۃ سے فارغ ہوں ) اس کو صاحب ِنصاب کہا جاتا ہے۔
۳۔    صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے ’’ عاقل و بالغ‘‘ ہونا شر ط نہیں بلکہ بچہ یا مجنوں (یعنی پاگل) بھی اگر صاحبِ نصاب ہوں تو ان کے مال میں سے ان کو وّلی ( یعنی سر پرست ) ادا کرے ۔
۴۔    مالک نصاب مرد پر اپنی طرف سے ، اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے اگر کوئی مجنوں (یعنی پاگل ) اولاد ہے ( چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالغ ہی  کیوںنہ ہو) تو اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ ہاں اگر وہ بچہ یا مجنوں اگر خود صاحبِ نصاب ہے تو پھر  ان کے مال میں سے فطر ادا کرے۔
۵۔    مرد صاحبِ نصاب پر اپنی بیوی یا ماں باپ یا چھوٹے بہن اور دیگر رشتہ داروں کا فطرہ واجب نہیں۔
۶۔    والد نہ ہوتو داد ا جان والد صاحب کی جگہ ہیں۔ یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتیوں کی طرف سے ان پر صدقہ فطر دینا واجب ہے۔
۷۔    ما ں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طر ف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں ۔
۸۔    باپ پر اپنی عاقل بالغ اولاد کا فطرواجب نہیں۔
۹۔    کسی صحیح شرعی مجبور ی کے تحت روزے نہ رکھ سکے یا معاذ اللہ کسی بد نصیب نے بغیر مجبوری کے رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے مگر اس پر بھی صاحب نصاب ہونے کی صورت میں صدقہ فطر واجب ہے۔   
۱۰۔    بیوی یا بالغ اولاد جن کا نفقہ وغیرہ (یعنی روٹی کپڑے کاخرچ) جس شخص کے ذمے ہے وہ اگر ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کا فطر اد ا کرے تو ادا ہوجائے گا ہاں اگر نفقہ اس کے ذمہ نہیں ہے مثلا بالغ بیٹے نے شادی کر کے گھرالگ بسا لیا اور اپنا گزارہ خود ہی کرلیتا ہے تو اب اپنے نا ن نفقہ کا خود ہی ذمہ دار ہوگیا ہے۔ لہذا ایسی اولاد کی طرف سے بغیر اجازت فطر دے دیا تو ادانہ ہوگا۔
۱۱۔    بیوی نے بغیر حکم شوہر کا فطرہ ادا کردیا تو ادانہ ہوگا۔
۱۲۔    عیدالفطر کی صبح صادق طلوع ہوتے وقت جو صاحب نصاب تھا اس پر صدقہ فطر واجب ہے ۔ اگر صبح صادق کے بعد صاحبِ نصاب ہواتو اب واجب نہیں ۔
۱۳۔    صدقہ فطر ادا کرنے کا افضل وقت تو یہی ہے کہ عید کو صبح صادق کے بعد عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے اگر چاند رات یا رمضان المبارک کے کسی بھی دن یا رمضان شریف سے پہلے بھی اگر کسی نے ادا کر دیا تب بھی فطر ادا ہو گیا اور ایسا کرنا بالکل جائز ہے۔
۱۴۔    اگر عید کا دن گزر گیا اور فطر ادانہ کیا تب بھی فطر ساقط نہ ہوا۔ بلکہ عمر بھر میں جب بھی ادا کریں اداہی ہے۔
۱۵۔    صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں انہیں فطر بھی دے سکتے ہیں اور جن کوزکوٰۃ نہیں دے سکتے ان کو فطر بھی نہیں دے سکتے ۔
۱۶۔    سادات کرام کو بھی صدقہ فطر نہیں دے سکتے ۔

شوال کے چھ روزے :
    شوال یعنی عید کے دوسر ے دن سے چھ روزے رکھنے کا بڑا ثواب ہے ۔ جس مسلمان نے رمضان المبارک کا پورا ماہ اور چھ دن شوال کے روزے رکھے تو اس نے گویا سارے سال کے روزے رکھے یعنی اس کو پورے سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: