Monthly Archives: July, 2013

حضرت علی کرم اللہ وجہہ


کتاب ملفوظاتِ محبوبِ ذات رحمۃ اللہ علیہ میں مرقوم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا صفحہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Madinah Institute published:


19th of Ramadan, the day when Syeduna Imam al Arifeen Maulana Ali bin Abu Talib as was struck on the head by a sword:
It has been narrated that Uqbah ibn Abi’s Sahba’ said: When ibn Muljam struck Ali as, al-Hasan as went in to see him, weeping. Imam Ali as said to him, ‘My son, memorise from me four and four.’ He said, "What are they, father?" He said, ‘Intelligence is the wealthiest of riches, the greatest poverty is folly, the loneliest solitude is conceit, and the noblest of noble qualities is good character’. He said, ‘and the other four?’ He said, ‘Beware of keeping the company of a fool, for he wants to benefit you and he harms you; beware of befriending a liar, for he will make the remote seem near to you and the near seem remote; beware of befriending a mean person for he will sit inactively however much you are in need of him; and beware of befriending an immoral person, for he will sell you for a trifling sum."
From: "The History of the Khalifas who took the right way" by Imam Jalal ad-Din as-Suyuti Rahimullah

556673_660501927312894_1475834327_n

نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ قرآن کی روشنی میں – قسط سوم


ازقلم: ڈاکٹر عباس علی قادری

ماہنامہ سوہنے مہربان ماہِ رمضان المبارک 1434ھ

    رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس نور ہے ۔اس شمارے میں نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

قسط دوم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

    حوالہ رقم 6

    حضور ﷺ  کی ذات ِ اقدس نور ہے اللہ کریم نے آپ ﷺ  کی نورانیت کو کبھی براہ ِ راست اور کبھی تشبیہ و استعارہ کے روپ میں قرآن مجید میں بیان کیا ہے ۔درج ذیل آیت میں حضور ﷺ  کے نور مقدس کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے ۔

وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى 

    ترجمہ۔ اس چمکتے ہوئے تارے محمد ؐ کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔            (ترجمہ امام احمد رضا خاں بریلویؒ)

    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے النجم کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ نجم  سے مرادمحمد ﷺ  ہیں ھو ا کے معنی آپﷺ  کا انوار سے بھرا اورغیر اللہ سے منقطع کشادہ سینہ مبارک ہے ۔

    شفا شریف جلد 1صفحہ 28

    تفسیر روح البیان جلد 6 صفحہ 4

    تفسیر مظہری ،جلد9 صفحہ 103

    شرح زرقانی جلد 6 صفحہ 216

اس آیت مقدسہ میں نجم سے مراد حضورﷺ ہیں ،ستارہ آسمان کا نور اور اس کی زینت ہوتا ہے ،حضور ﷺ زمین کا نور اور اس کی زینت ہیں ۔ جن مفسرین کرام نے نجم سے مرادحضورﷺ لیا ہے ، ان کا حوالہ پیش خدمت ہے ۔

    تفسیر خازن،جلد 4صفحہ 190

    تفسیر صاوی جلد 4 صفحہ 114

    تفسیر خزائن العرفان صفحہ625

Continue reading →

Ramadan Timings for Sahur and Iftar


To enlarge the picture, click on it.

تصویر کو بڑا کرنے کے لیے اس پر کلک کریں۔

1049243_476347265785783_801923001_o

Surah al-Kahaf, Verse 110


قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ  ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا

فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلام الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ قرآن کی روشنی میں


ازقلم: ڈاکٹر عباس علی قادری

ماہنامہ سوہنے مہربان ماہِ شعبان المعظم 1434ھ

    رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس نور ہے ۔اس شمارے میں نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

قسط اوّل پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

حوالہ رقم 3

    قرآن پاک میں نورانیتِ مصطفی  ﷺ کے متعلق ایک جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا        ؀   وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا        ؀        سورۃ االاحزاب آیت45,46

    ترجمہ۔اے غیب کی خبریں بتانے والے نبیﷺبے شک ہم نے تجھے بھیجا حاضروناظر بنا کر اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والااور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والااور نور بانٹنے والاآفتا ب بنا کر۔

    عربی لغت میں سراج سے مراد سورج ہے اور منیر ا سے مراد نور بانٹنے والا،یا نور تقسیم کرنے والا،جو لوگ سِرَاجًا مُّنِیْرًا  کا ترجمہ کرتے ہیں روشن آفتاب وہ صحیح نہیں  ہے کیونکہ عربی میں روشن کے لیے لفظ منور استعمال ہو تا ہے جبکہ منیرسے مراد نور تقسیم کرنے والاکےہیں۔

    اگر ہم قرآن پاک کے الفاظ سِرَاجًا مُّنِیْرًا کی گہرائی میںجاکر دیکھیں ،تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورج کے لیے لفظ استعمال کیا ہے وجعل فیھا سراج اور چاند کے لیے لفظ استعمال کیا ہے وقمرًا منیرًا ۔چونکہ سراج یعنی سور ج کی حکمرانی دن کو ہوتی ہےیعنی وہ دن کو روشنی بکھیرتا ہے اور قمر یعنی چاند کی حکمرانی رات کو ہوتی ہےاوروہ رات کو روشنی تقسیم کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ  نے اپنےمحبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ  کے لیے یہ دونوں الفاظ یکجا کر دئیےاور سِرَاجًا مُّنِیْرًا ارشاد فرما کر یہ عیاں کر دیا کہ آپﷺ  کے نور کی ضیا پاشیاں دن کو بھی ہوتی ہیں اور رات کو بھی آپﷺ  کا نور روشنی بکھیرتا ہے۔


Continue reading →

Monthly Sohney Mehrban July 2013


ماہنامہ سوہنے مہربان (ماہِ رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ بمطابق جولائی 2013ء) پی۔ڈی۔ایف میں دستیاب ہے۔ رسالہ پڑھنے یا محفوظ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Monthly Sohney Mehrban (Ramadan 1434 i.e. July 2013) is available in pdf format. To read/download, click here.

کیا یا رسول اللہ ﷺ، یا محمد ﷺ، یا نبی ﷺ کہنا جائز ہے؟


 

1010728_642906829072404_1507787449_n

 

Click to enlarge the picture.