نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ قرآن کی روشنی میں – قسط سوم


ازقلم: ڈاکٹر عباس علی قادری

ماہنامہ سوہنے مہربان ماہِ رمضان المبارک 1434ھ

    رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس نور ہے ۔اس شمارے میں نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

قسط دوم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

    حوالہ رقم 6

    حضور ﷺ  کی ذات ِ اقدس نور ہے اللہ کریم نے آپ ﷺ  کی نورانیت کو کبھی براہ ِ راست اور کبھی تشبیہ و استعارہ کے روپ میں قرآن مجید میں بیان کیا ہے ۔درج ذیل آیت میں حضور ﷺ  کے نور مقدس کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے ۔

وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى 

    ترجمہ۔ اس چمکتے ہوئے تارے محمد ؐ کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔            (ترجمہ امام احمد رضا خاں بریلویؒ)

    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے النجم کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ نجم  سے مرادمحمد ﷺ  ہیں ھو ا کے معنی آپﷺ  کا انوار سے بھرا اورغیر اللہ سے منقطع کشادہ سینہ مبارک ہے ۔

    شفا شریف جلد 1صفحہ 28

    تفسیر روح البیان جلد 6 صفحہ 4

    تفسیر مظہری ،جلد9 صفحہ 103

    شرح زرقانی جلد 6 صفحہ 216

اس آیت مقدسہ میں نجم سے مراد حضورﷺ ہیں ،ستارہ آسمان کا نور اور اس کی زینت ہوتا ہے ،حضور ﷺ زمین کا نور اور اس کی زینت ہیں ۔ جن مفسرین کرام نے نجم سے مرادحضورﷺ لیا ہے ، ان کا حوالہ پیش خدمت ہے ۔

    تفسیر خازن،جلد 4صفحہ 190

    تفسیر صاوی جلد 4 صفحہ 114

    تفسیر خزائن العرفان صفحہ625



        حوالہ رقم7

وَالْفَجْرِ     ۝ۙ  وَلَيَالٍ عَشْرٍ     ۝ۙ             پارہ 30سورۃفجر

    ترجمہ ۔قسم ہےصبح کی اورقسم ہےدس راتوں کی

    حضرت ابن عطا ء ؒ  نے اللہ تعالیٰ کے اس قول والفجر oو لیال عشرo

کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ فجر سے مراد حضورﷺ   ہیں اس لئے کہ آپ ﷺ ایمان کا مطلع ہیں ،ایمان آپﷺ سے ظاہر ہوا ۔آپ ہی کا وجود تاریکیوں میں فجر کی علامت ہے۔

    شفا شریف جلد 1صفحہ82


        حوالہ رقم8

 

وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ        ۝ۙ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ       ۝ۙ  النَّجْمُ الثَّاقِبُ       ۝ۙ

                    پارہ ۳۰سورۃ طارق

    ترجمہ۔ آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی قسم ،اور کچھ تم نے جانا رات کو آنے والا کیا ہے ،خوب چمکتا ہوا تا راہے۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان انجم ھنا ایضاً محمد۔یعنینجم سے مراد حضورﷺ ہیں

    شفا شریف ،جلد 1صفحہ 30

    نسیم الریاض جلد1صفحہ215


        حوالہ رقم9

    وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا       ۝۽  وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا      ۝۽        سورۃ الشمس پارہ ۳۰

    ترجمہ۔سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی قسم اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے۔

اس آیت میں شمس سے مراد حضور پاکﷺ کا دل انور ہے اور ضحی سے مراد نور نبوت کی روشنی ہے ،اور قمر سے مراد مرشد کامل ہے ۔بعض تفا سیر میں حضور ﷺ کے چہرہ انور کو وضحی کہا گیا ہے اور لیل سے مراد حضورﷺ  کی زلفیں ،ضحی وہ وقت ہوتا ہے جب سورج اپنی پوری آب و تاب سےآسمان پر جلوہ گر ہوتا ہے ،حضورﷺ  چونکہ منبع انوار ہیں اس لئے ضحی کا وقت وہ ہو تا ہے جب آپﷺ کے چہرہ انور کی روشنی سے پورا عالم منور ہوتا ہے ،حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی ؒ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں  شمس سے مراد حضور انورﷺ کادل مبارک ہے ،ضحی سے مراد آپ ﷺ  کے نور نبوت کی روشنی ہے اور قمر سے مراد مرشد کامل ہو تا ہے ،جو پیغمبر ؐ کے نقش قدم پر ہوتا ہے جس طرح چاند سورج کی پیروی کرتا ہے یعنی سورج کے بعد طلوع ہوتا ہے اس طرح مرشد کامل حضورﷺ  کے بعد چاند کی مانند حضور ﷺ  سے روشنی لے کر تقسیم کرتا ہے ۔

تفسیر عزیزی پارہ30صفحہ 188ٍ              


If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: