Hazrat Ali’s quote # 346


دنیا

 

دنیا سے الگ رہو، خدا تمہیں اس کے عیوب دکھا دے گا۔ خدا سے غافل نہ ہو کیونکہ وہ تم سے غافل نہیں ہے۔

یہ دنیا دھوکا دیتی ہے، نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ خدا نے اسے نہ تو اپنے اولیاء کو ثواب میں دینا پسند کیا اور نہ دشمنوں کو سزا کے طور پر۔ ان اَہلِ دنیا کی تو وہ مثل ہے جیسے قافلہ ابھی اترا ہی تھا کہ ’’ہنکوئے‘‘ نے چلو چلو کی صدا بلند کر دی۔

بیٹے! دنیا میں اپنے بعد کچھ چھوڑ کے نہ جانا۔ اگر چھوڑ جاؤ گے تو دو میں سے ایک آدمی ضرور حصہ دار ہو گا۔ خدا کا عبادت گزار یا گناہگار۔ عبادت گزار ہوا تو اس مال کی بدولت خوش نصیب کہ اس نے اسے راہِ خدا میں صَرف کر دیا اور تم بد قسمت کہ جمع کر کے مر گئے اور صَرف نہ کر سکے۔ اور اگر گناہگار ہوا تو وہ بد نصیب اور تم عملِ بد میں اس کے مددگار کہ نہ دولت چھوڑتے اور نہ وہ اس سے عیش کرتا۔ اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی اس کا مستحق نہیں کہ تم اس کے لیے ایثار کرو۔

اولیاء اللہ وہ ہیں جو دنیا کے باطن کو اس وقت دیکھتے ہیں جب عام لوگ ظاہر کو دیکھتے ہیں۔ وہ اس کے نتیجے کے منتظر رہتے ہیں۔ جبکہ دنیا والے فوری فائدوں میں الجھے ہوتے ہیں۔ وہ اس فائدے کو فنا کر دیتے ہیں جس سے انہیں اپنی ہلاکت کا خدشہ ہوتا ہے۔ وہ اس کے دشمن ہوتے ہیں جس سے اہلِ دنیا کی صلح ہو اور اس سے صلح کرتے ہیں جس سے اہلِ دنیا کی دشمنی ہو۔ لوگوں نے ان سے قرآن سیکھا اور انہوں نے سب کچھ قرآن سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن قائم، وہ قرآن کے سہارے زندہ۔ ان کی امیدوں سے بڑی امید اور ان کے خوف سے بڑا خوف نظر نہیں آتا۔

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: