حضرت غوثِ اعظم کے مریدین – اداریہ ماہنامہ سوہنے مہربان (ماہِ ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ بمطابق فروری ۲۰۱۴ء)


ماہ ربیع الثانی میں محبوب سبحانی، قطب ربانی، شیریزدانی حضرت غوث الاعظم ؒ کا عرس مبارک پوری دنیا میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ بلا شبہ تاریخ عالم میں کوئی ان جیسی صاحب شرف ، ذیشان اور عالی مرتبت شخصیت ان کے مقابل نہیں ہے۔ زمین پر آپ ؒ کا اسم مبارک ’’محی الدین‘‘ یعنی دین کو زندہ کرنے والا اور آسمانوں پر ’’بازِ اشہب ‘‘ ہے۔ یعنی بہترین نسل کا سب بازئوں سے بلند پرواز کی صلاحیت رکھنے والا باز۔

آپ ؒ پیدائشی ولی تھے بلکہ ظاہری پیدائش سے قبل بھی ولایت محبوبیت کے درجہ اولیٰ پر فائز تھے۔ حضرت سلطان باہو ؒ نے اپنی کتاب نور الہدیٰ اور عبد القادر اربلیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’تفریح الخاطر‘‘ فی مناقب عبد القادر ؒ میں لکھا ہے۔ معراج کی شب نبی پاکﷺ کے قدموں کے نیچے حضرت غوث الاعظمؒ کی محبوبی صورت نے اپنی گردن پیش کی اور سواری کی حیثیت سے آپ ﷺ  کو مقام ’’قاب قوسین او ادنیٰ‘‘ تک پہنچا دیا۔

اس وقت نبی پاکﷺ  نے نہایت شفقت سے فرمایا۔’’اے میرے فرزند ارجمند محی الدین تونے اپنی گردن میرے قدموں کے نیچے پیش کی۔ کل تُو اللہ کے حکم سے کہے گا، قَدْمِی ہٰذِہٖ علیٰ رَقَبَۃِ کُل ولِی اللہ
(میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کے گردنوں پر ہے)پھر میری امت کے تمام اولیاء کرام اپنی گردنیں تیرے قدم کے نیچے پیش کر دیں گے۔ تفریح الخاطر میں مزید لکھا ہے کہ جب حضرت غوث الاعظمؒ اس عالم رنگ و بو میں تشریف لائے تو آپ کے کندھوں پر نبی کریم ﷺ کے قدموں کے نشاں موجود تھے۔

خود حضرت غوث الاعظم ؒنے مختلف قصائد میں اپنی شان بیان فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپ ؒ نے ارشادفر مایا۔

ترجمہ:  میں بلندیوں میں نور محمدی ﷺ کے ساتھ تھا اور قاب قوسین میں پیاروں کا ملاپ تھا۔

اتنی باطنی رفعت اور مراتب رکھنے کے باوجود آپؒ نے جہد اور ریاضت کی انتہا کر دی۔ آپ ؒنے اس بارے میں خود فرمایا

میں پچیس برس تک عراق کے بیابانوں میں تنہا پھرتا رہا اور مجھے کوئی بھی نہ پہچانتا تھا۔ میں تین سال تک ایک مقام پر رہا، ایک سال میں نے صرف ساگ کھا کر گذارا کیا اور پانی بالکل نہیں پیا۔ ایک سال صرف پانی پی کر گزارا کیا۔ پھر ایک سال نہ کچھ کھایا نہ پیا اور سونا بھی چھوڑ دیا۔ عراق کے قریب ویرانوں میں ایک پرانابُرج تھا۔ وہاں میں نے گیارہ برس قیام کیا، اور نفس سے جنگ لڑی۔ میرے طویل قیام کی وجہ سے لوگ اسے برج عجمی کہنے لگے۔ پھر مجھ پر میرا نفس ظاہر کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے اراض ابھی باقی ہیں اور اسکی خواہش زندہ ہے۔

میں پھر سال بھر اس کی طرف متوجہ رہا۔ تب اس کے کل اراض جاتے رہے، اس میں امر الہٰی کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ میری ہستی مجھ سے جدا ہوگئی اور میں تنہا ہوگیا۔ تب میں توکّل کے دروازے پر آیا۔ یہاں بڑا ہجوم تھا میں اس سے گذر کر آگے بڑھ کر شکر کے دروازے پر پہنچ گیا ۔یہاں بھی کافی ہجوم تھا۔ میں یہاں سے گذر کر غنا کے دروازے پر آیا۔یہاں بھی ہجوم دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔ اور مشاہدے کے دروازے پر آیا ۔ یہاں بھی ہجوم دیکھا۔ آگے بڑھا اور فقر کے دروازے پر آیا تو اسے خالی پایا۔ لہٰذا میں اس میں داخل ہوگیا۔ یہاں مجھے وہ سب چیزیں ملیں جن کو میں نے ترک کیا تھا۔ یہاں مجھے روحانی عزت غنائے حقیقی اور سچی آزادی حاصل ہوگئی۔ میں نے اپنی زیست کو مٹا دیا ۔ اپنے اوصاف کو چھوڑ دیا۔ جس سے میری ہستی میں دوسری حالت پیدا ہوگئی۔

مقام فقر پر پہنچ کر آپ ؒنے مریدین کو اس طرح خطاب فرما کر خوشخبریاں سنائیں۔

٭      مجھے ایک صحیفہ دیا گیا جس میں میرے قیامت تک آنے والے مریدین کے نام درج تھے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا اے عبد القادر میں نے ان کو تمہارے سبب بخش دیا ہے۔ میں نے داروغہ جہنم سے پوچھا ہے تمہارے پاس کوئی میرا مرید تو نہیں۔ اس نے جواب دیا نہیں۔ آپ کے مرید کو جہنم سے کیا سروکار؟

٭    آپ ؒنے فرمایا:جلال ِپروردگار کی قسم جب تک میرے سب مرید جنت میں نہیں چلے جاتے میں بارگاہ ِخداوندی میں حاضر نہیں ہوںگا۔

٭    جلال ِپروردگار کی قسم میرا دستِ حمایت میرے میریدین پر ایسے ہے جیسا زمین کے اوپر آسمان۔

٭    میرا مرید اگر اچھا نہیں تو کیا ہوا میں تو اچھا ہوں۔

٭    میرا مرید مشرق یا مغرب یا چڑھے ہوئے دریا تلے ہو یا ہوا میں ہو۔ جب بھی مجھے پکارے میں اس کی دستگیری کرتا ہوں۔

٭    اے میرے مرید ہر خوف اورسختی میں ہمارا وسیلہ پکڑ۔ میں پوری قوت کے ساتھ تمام چیزوں میں تمہاری مدد کروں گا۔

٭    اے میرے مرید سرشار عشق الہٰی ہو جا اور خو ش رہ اوربے پرواہ ہو جا۔ اور جو چاہے کر ،کیوں کہ تیری نسبت میرے نام سے ہے۔جو بہت بلند ہے۔

حضرت غوث الاعظم ؒکا مرید کون ہے؟ اس کی کیا خصوصیات ہیں۔

اس کے بارے میں آپؒ کا ارشاد ہے۔

رِجَالِی فِی ھَوَا جِرِھِمْ صیام۔  وَفِی ظُلَمِ اللِّیَالِ كَا للالٖ۔

ترجمہ:     میرے مرید موسم گرما میں روزے رکھتے ہیں اور راتوں کی تاریکی میں (نورِ عبادت سے) موتیوں کی طرح چمکتے ہیں۔

    آئیے عرس حضرت غوث اعظم ؒکے موقع پر ہم اپنا جائزہ لیں۔ کہ ہم کس حد تک غوث الاعظم ؒکے مرید کہلوانے کے حقدار ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے اور حضرت غوث الاعظمؒ کے سچے مرید بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

سیّد شاہ کمال محی الدین گیلانی

چیف ایڈیٹر

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: