حضرت محبوبِ ذات رحمۃ اللہ علیہ کا ادبِ پنجتن پاک و خلفائے راشدین و ازواجِ مطہرات


MR-27

عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ” إن من أمن الناس علي في صحبته وماله أبو بكر – وعند البخاري أبا بكر – ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكن أخوة الإسلام ومودته لا تبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بكر ” . وفي رواية : ” لو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر خليلا ” . متفق عليه

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 625

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسانوں میں سب سے زیادہ جس شخص نے میرا ساتھ دیا اور میری خدمت میں اور میری خوشنودی میں اپنا وقت اور اپنا مال سب سے زیادہ لگایا وہ ابوبکر یا بخاری کی روایت کے مطابق ابا بکر ہیں ۔ اگر کسی شخص کو اپنا خلیل یعنی سچا دوست بناتا تو یقینا ابوبکر کو ایسا دوست بناتا تاہم اسلامی اخوت ومحبت اپنی جگہ (بلندتر) ہے مسجد نبوی میں ابوبکر کے گھر کی کھڑکی یا روشندان کے علاوہ اور کوئی کھڑکی یا روشندان باقی نہ رکھا جائے ” اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اگر میں اللہ کے سوا کسی کو اپنا خلیل بناتا تو یقینا ابوبکر ہی کو خلیل بناتا ۔” (بخاری ومسلم )


عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه ” . رواه الترمذي وفي رواية أبي داود عن أبي ذر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ” إن الله وضع الحق على لسان عمر يقول به “

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 650

” حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔” اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر اور ان کے قلب میں حق وصداقت جاری فرمادیا ہے ۔” (ترمذی )
تشریح :
اور ابوداؤد کی روایت میں جو حضرت ابوذر سے مروی ہے یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے ” اسی لئے وہ حق بات کہتے ہیں (حق کے علاوہ اور کوئی بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی ۔”


عن طلحة بن عبيد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” لكل نبي رفيق ورفيقي – يعني في الجنة – عثمان ” رواه الترمذي وراه ابن ماجه عن أبي هريرة وقال الترمذي : هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي وهو منقطع

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 679

حضرت طلحہ ابن عبیداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق (یعنی ہمراہی اور مہربان ساتھی ودوست ) ہوتا اور میرے رفیق ، یعنی جنت میں عثمان ہیں ، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور ابن ماجہ نے بھی یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہے نیزترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ اور اس کی اسناد قوی نہیں ہے اور یہ منقطع ہے ۔”


وعن زيد بن أرقم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ” من كنت مولاه فعلي مولاه ” . رواه أحمد والترمذي

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 706

اور زید ابن ارقم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں ۔


وعن البراء بن عازب وزيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما نزل بغدير خم أخذ بيد علي فقال : ” ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم ؟ ” قالوا : بلى قال : ” ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه ؟ ” قالوا : بلى قال : ” اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه ” . فلقيه عمر بعد ذلك فقال له : هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة . رواه أحمد

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 718

حضرت براء بن عازب اور زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غدیر خم میں پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کو جمع کیا اور جیسا کہ ایک روایت میں ہے ، اونٹوں کے پلانوں کا منبر بنا کر اس پر کھڑے ہوئے اور پھر ) حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا : ( اے میرے اصحاب!) یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ اہل ایمان کے نزدیک میں ان کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں ؟ سب نے عرض کیا جی ہاں ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : تم تو جانتے ہی ہو کہ میں ایک ایک مؤمن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ عزیز و محبوب ہوں ! صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! جس شخص کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے ۔ الہٰی تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور تو اس شخص کو اپنا دشمن قرار دے جو علی سے دشمنی رکھے ” اس واقعہ کے بعد حضرت عمر جب حضرت علی سے ملے تو ان سے بولے ابن ابی طالب مبارک ہوتم تو صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی (یعنی ہر آن وہرلمحہ ) ہر مسلمان مرد وعورت کے دوست ومحبوب ہو۔” (احمد )


وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة ” . رواه الترمذي

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 801

اور حضرت سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حسن اور حسین دونوں بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔” (ترمذی)


وعن حذيفة قال : قلت لأمي : دعيني آتي النبي صلى الله عليه و سلم فأصلي معه المغرب وأسأله أن يستغفر لي ولك فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء ثم انفتل فتبعته فسمع صوتي فقال : ” من هذا ؟ حذيفة ؟ ” قلت : نعم . قال : ” ما حاجتك ؟ غفر الله لك ولأمك إن هذا ملك لم ينزل الأرض قط قبل هذه الليلة استأذن ربه أن يسلم علي ويبشرني بأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة وأن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة ” رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 809

اور حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز ) میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آج مغرب کی نماز جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھوں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کروں کہ وہ میرے اور آپ کے لئے بخشش و مغفرت کی دعا فرمائیں چنانچہ (میری والدہ نے مجھے اجازت دے دی اور ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد ) نوافل پڑھتے رہے یہاں تک کہ پھر عشاء کی نماز پڑھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز (یعنی میرے قدموں یا جوتوں کی آواز) سن لی (یا یہ کہ میں نے کسی سے کوئی بات کی جس کی آواز آپ نے بھی سن لی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے (جو اس وقت اپنے گھر جانے کے بجائے میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہو ) اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو عفو و بخشش سے نوازے (دیکھو) یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا، اس (فرشتہ ) نے اپنے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ (زمین پر ) آ کر مجھ کو سلام کرے اور مجھ کو یہ خوشخبری سنائے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ “


وعن عائشة : قالت : كنا – أزواج النبي صلى الله عليه و سلم – عنده . فأقبلت فاطمة ما تخفى مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رآها قال : ” مرحبا بابنتي ” ثم أجلسها ثم سارها فبكت بكاء شديدا فلما رأى حزنها سارها الثانية فإذا هي تضحك فلما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم سألتها عما سارك ؟ قالت : ما كنت لأفشي على رسول الله صلى الله عليه و سلم سره فلما توفي قلت : عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما أخبرتني . قالت : أما الآن فنعم أما حين سار بي في الأمر الأول فإنه أخبرني : ” أن جبريل كان يعارضه بالقرآن كل سنة مرة وإنه قد عارضني به العام مرتين ولا أرى الأجل إلا قد اقترب فاتقي الله واصبري فإني نعم السلف أنا لك ” فلما رأى جزعي سارني الثانية قال : ” يا فاطمة ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء أهل الجنة أو نساء المؤمنين ؟ “
وفي رواية : فسارني فأخبرني أنه يقبض في وجعه فبكيت ثم سارني فأخبرني أني أول أهل بيته أتبعه فضحكت . متفق عليه

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 771

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں (آپ کے مرض الموت سے کچھ ہی پہلے ایام مرض الموت کے دوران ایک دن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ فاطمہ آئیں ۔ ان کی چال کی وضع اور ہیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی وضع اور ہیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی واضع اور ہیت سے (ذرا بھی ) مختلف نہیں تھی (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کا انداز اس قد ریکساں تھا کہ کوئی بھی ان دونوں کی چال میں امیتاز نہیں کرسکتا تھا ) بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو (آتے ) دیکھا تو فرمایا : میری بیٹی مرحبا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (اپنے پاس ) بٹھا لیا اور چپکے چپکے ان سے باتیں کیں ، اتنے میں فاطمہ رونے لگیں اور زور زور سے رزئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ فاطمہ بہت رنجیدہ ہوگئی ہیں تو پھر ان سے سرگوشی کرنے لگے اور فاطمہ اکدم کھلکھلا کر ہنس دیں پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (استنجاء وغیرہ کے لئے یا نماز پڑھنے کے لئے وہاں سے) اٹھکر چلے گئے تو میں نے فاطمہ سے پوچھا کہ تم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چپکے چپکے کیا باتیں کررہے تھے ؟ فاطمہ نے جواب دیا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کرنے والی نہیں ہوں (اس وقت تو میں خاموش ہوگئی لیکن ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو (ایک دن ) میں نے فاطمہ سے کہا کہ (ایک ماں ہونے کی حیثیت سے یا دینی اخوت اور باہمی محبت وتعلق رکھنے کے اعتبار سے ) تم پر میرا جو حق ہے اس کا واسطہ اور قسم دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ میں تم سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگتی کہ مجھ کو اس سرگوشی کے بارے میں بتادو جو ( اس دن ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کی تھی فاطمہ بولیں : ہاں اب (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں اس راز کو ظاہر کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے ہوئے ) میں بتاتی ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی تھی تو اس میں مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھ سے سال بھر میں ایک مرتبہ (یعنی رمضان میں ) قرآن کا دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال (رمضان میں ) انہوں نے مجھ سے دوبار دور کیا اور اس کا مطلب میں نے یہ نکالا ہے کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے، پس (اے فاطمہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتی رہنا (یعنی تقویٰ پر قائم رہنا یا یہ کہ جہاں تک ہو سکے زیادہ تقوی اور پرہیز گاری اختیار کرنا ) اور (اللہ کی اطاعت وعبادت میں مشغول رہنے اور معصیت سے بچنے کے لئے جو بھی تکلیف اور مشقتیں اٹھا نا پڑیں اور جو بھی آفت وحادثہ پیش آئے خصوصا میری موت کے سانحہ پر ) صبر کرنا ، بلاشبہ میں تمہارے لئے بالخصوص ) بہترین پیش روہوں ” (یہ تو وہ بات تھی جس کو سن کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا احساس کرکے ) میں رونے لگی تھی اور پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زیادہ مضطرب اور بے صبر پایا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور اس وقت یوں فرمایا : اے فاطمہ ! کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم جنت میں (تمام ) عورتوں یا (خاص طور پر اس امت کی عورتوں کی سردار بنائی جاؤ ” (یہ سن کر میں ہنسنے لگی تھی) اور ایک روایت میں حضرت فاطمہ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلی مرتبہ ) مجھ سے سرگوشی کی تو اس میں یہ فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں وفات پاجائیں گے اور (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی ، (دوسری مرتبہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی اس میں مجھ کو یہ بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملوں گی (یعنی یہ تسلی دی تھی کہ مضطرب نہ ہوٍ، میری وفات کے بعد بہت جلد تم بھی اس دنیا سے رخصت ہو کر میرے پاس آجاؤ گی ) چنانچہ (یہ سن کر ) میں ہنسنے لگی تھی ۔ (بخاری ومسلم )


وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا فاطمة عام الفتح فناجاها فبكت ثم حدثها فضحكت فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم سألتها عن بكائها وضحكها . قالت : أخبرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه يموت فبكيت ثم أخبرني أني سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم بنت عمران فضحكت . رواه الترمذي

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 841

اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے ساتھ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے قریب بلایا اور ان سے چپکے چپکے کچھ باتیں سن کر رونے لگیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے اسی سرگوشی کے سے انداز میں باتیں کیں تو اب وہ ہنسنے لگیں اور پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا تو ایک روز میں نے ان کے اس دن کے رونے اور پھر ہنسنے کا سبب دریافت کیا انہوں نے بتایا کہ پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے بارے میں مجھ کو آگاہ کیا تھا جس کو سن کر میں رونے لگی تھیں پھر آپ نے جب مجھ کو بتایا کہ میں مریم بنت عمران کے سوا جنت کی ساری عورتوں کی سردار ہوں تو ہنسنے لگی تھی ، (ترمذی )


وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ” خير نسائها مريم بنت عمران وخير نسائها خديجة بنت خويلد ” متفق عليه
وفي رواية قال أبو كريب : وأشار وكيع إلى السماء والأرض

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 823

” حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مریم بنت عمران اپنی امت میں سب سے بہتر عورت ہیں اور خدیجہ بن خویلد اپنی امت میں سب سے بہتر عورت ہیں (بخاری ومسلم) اور ایک روایت میں ابوکریب نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت وکیع رضی اللہ عنہ نے (جو حفاظ حدیث میں سے ہیں اور حضرت امام مالک اور ان کے ہم عصروں کے ہم پلہ ہیں) آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا کہ اس حدیث کے مطابق یہ دونوں خواتین اپنی امتوں میں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل و اشرف ہیں ۔ “


وعنها قالت : إن الناس كانوا يتحرون بهداياهم يوم عائشة يبتغون بذلك مرضاة رسول الله صلى الله عليه و سلم . وقالت : إن نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم كن حزبين : فحزب فيه عائشة وحفصة وصفية وسودة والحزب الآخر أم سلمة وسائر نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلم حزب أم سلمة فقلن لها : كلمي رسول الله صلى الله عليه و سلم يكلم الناس فيقول : من أراد أن يهدي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فليهده إليه حيث كان . فكلمته فقال لها : ” لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم يأتني وأنا في ثوب امرأة إلا عائشة ” . قالت : أتوب إلى الله من ذاك يا رسول الله ثم إنهن دعون فاطمة فأرسلن إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمته فقال : ” يا بنية ألا تحبين ما أحب ؟ ” قالت : بلى . قال : ” فأحبي هذه ” . متفق عليه
وذكر حديث أنس ” فضل عائشة على النساء ” في باب ” بدء الخلق ” برواية أبي موسى

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 828

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ اس بات کو ترجیح دیتے تھے کہ وہ اپنے ہدیے اور تحائف اس دن پیش کریں جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن ہو یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیے اور تحائف لانے والے دن کا انتظار کرتے تھے جس روز کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور اس سے ان کا مقصد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (زیادہ سے زیادہ ) رضا وخوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں دو ٹولیوں میں منقسم تھیں اور ان میں سے ہر ٹولی یکساں مزاج ، یکساں طرز معاشرت و اختلاط رکھنے والی بیویوں پر مشتمل تھی ) ایک ٹولی تو وہ تھی جس میں عائشہ رضی اللہ عنہا ، حفصہ ، صفیہ اور سودہ رضی اللہ عنہما تھیں اور دوسری ٹولی وہ تھی جس میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیویاں تھیں پس (ایک روز ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بات چیت کی اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے یہ فرما دیں کہ کوئی ہدیہ و تحفہ پیش کرنا چاہئے وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کی تخصیص نہ کرے بلکہ ) پیش کر دے چاہے آپ کسی جگہ ہوں (خواہ عائشہ کے گھر میں ہوں خواہ کسی اور بیوی کے گھر میں تاکہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری بیویوں کے درمیان سے وہ امتیاز اٹھ جائے جس سے ان بیویوں کو غیرت محسوس ہوتی ہے ) چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں تکلیف نہ پہنچاؤ (تم شاید نہیں جانتیں کہ ) اس وقت میرے پاس وحی نہیں آتی جب میں کسی بیوی کے لحاف میں یا چادر میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے ام سلمہ رضی اللہ عنہا (یہ سن کر ) بولیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اللہ کے حضور اس بات سے توبہ کرتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچاؤں ( یا کسی ایسے کام کا ارادہ بھی کروں جو آپ کو تکلیف پہنچانے کا باعث ہو) پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ٹولی کی عورتوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا (تاکہ اس بارے میں اب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں ) چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آپ سے گفتگو کی اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات سے لاعلم ہی ہوں کہ اس سے پہلے ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا چکی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کن الفاظ میں جواب دے چکے ہیں ، بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو سن کر ان سے فرمایا میری بیٹی ! کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں کیوں نہیں (یقینا میں ہر اس ذات سے محبت رکھتی ہوں اور محبت اور محبت رکھوں گی جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ) آپ نے فرمایا : تو پھر تم عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت رکھو اور کسی ایسی بات کا ذکر نہ کرو جس سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ناگواری ہو) بخاری ومسلم اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث : فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الاطعمہ باب بدا الخلق میں ابوموسیٰ کی روایت سے نقل کی جا چکی ہے “

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: