سجدۂ تعظیمی اور طوافِ تعظیمی


13892017_10157320019415014_2507633454113556710_n

 

آرے اگر کسے سجدہ و طواف بہ نحوِ یا فلاں افعل کذا آرد مشابہت بہ عبدۃُ الاوثان کردہ باشد

اگر کوئی شخص کسی قبر کے سامنے سجدہ کرے یا اُس کا طواف کرے یا اِن الفاظ میں دُعا کرے کہ اے صاحبِ مزار! میرا فلاں کام یوں کر دے، ایسا کرنا بتوں کے پجاریوں سے مشابہت پیدا کرتا ہے۔

پیر مہر علی شاه صاحب گیلانیؒ، اعلاء کلمۃاﷲ : 66

 



 

 

مزار کو ہاتھ نہ لگائے، نہ بوسہ دے۔ طواف بالاتفاق ناجائز ہے جبکہ سجدہ حرام ہے۔‘‘

امام احمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 212

 



 

 

قَبْر کا طواف

) تعظیم کی نیِّت سے قَبْرکا طواف کرنا منع ہے۔ (بہارِشریعت، ج، ۱ص ۸۵۰(

 

قَبْر کو سجدہ کرنا

(۱۰) قَبْرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیِّت ہو توکفر ہے۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ، ج ۲۲، ص ۴۲۳)”

قبر والوں کی ۲۵ حکایات: ۲۴، مطبوعہ دعوتِ اسلامی۔

 

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: