فتوح الغیب – مقالہ ۳


 

فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی

مقالہ ۳ – مومن کا آغاز اور انجام

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: إذا ابتلي العبد ببلية تحرك أولاً في نفسه بنفسه. فإن لم يتخلص منها استعان بالخلق كالسلاطين وأرباب الدنيا وأصحاب الأحوال وأهل الطب في الأمراض والأوجاع. فإن لم يجد في ذلك خلاصاً رجع إلى ربّه بالدعاء والثناْ. ما دام يجد بنفسه نصرة لم يرجع إلى الخلق. وما دام يجد به نصرة عند الخلق لم يرجع إلى الخالق. ثم إذا لم يجد عند الخالق نصرة استطرح بين مديماً للسؤال والدعاء والتضرع والثناء والافتقار مع الخوف والرجاء. ثم يعجزه الخالق عزّ وجلّ عن الدعاء. ولم يجبه حتى يقطع عن جميع الأسباب. فحينئذ ينفذ فيه قدر ويفعل فيه فعل فيفني العبدعن جميع الأسباب والحركات فيبقى روحاً فقط. فلا يرى إلا فعل الحق فيصير موقناً موحداً ضرورة يقطع أن لا فاعل في الحقيقة إلا الله. لا محرك ولا مسكن إلا الله. ولا خير ولا ضر ولا نفع ولا عطاء ولا منع ولا فتح ولا غلق ولا موت ولا حياة ولا عزّ ولا ذل إلا بيد الله. فيصير في القدر كالطفل الرضيع في يد الظئر والميت الغسيل في يد الغاسل والكرة في صولجان الفارس. يقلب ويغير ويبدل ويكون ولا حراك به في نفسه ولا في غيره. فهو غائب عن نفسه في فعل مولاه. فلا يرى غير مولاه وفعله ولا يسمع ولا يعقل من غيره. إن بصر وإن سمع وعلم فلكلامه سمع ولعلمه علم. وبنعمته تنعم. وبقربه تسعد. وبتقريبه تزين وتشرف. وبوعده طاب وسكن. به اطمأن. وبحديثه أنس. وعن غيره استوحش ونفر. وإلى ذكره التجأ وركن. وبه عزّ وجلّ وثق وعليه توكل. وبنور معرفته اهتدى وتسربل. وعلى غرائب علومه اطلع. وعلى أسرار قدرته أشرف ومنه سمع ووعي. ثم على ذلك حمد وأثنى وشكر ودعا.

 

ترجمہ: جب بندہ مصائب میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے پہلے وہ کوشش کرتا ہے۔ جب اس طرح نجات نہیں پاتا تو دوسروں، مثلاً بادشاہوں، حکام اور دنیا داروں سے مدد طلب کرتا ہے۔ اور اگر بیمار ہو تو دکھ درد سے بچنے کے لیے طبیبوں سے رجوع کرتا ہے۔ اگر یہ بھی اس کو نجات نہ دلا سکیں تو وہ اپنے خالق و مالک کے دربار میں گڑ گڑا کر دعا کرتا ہے۔ الغرض جب وہ خود اپنی مشکل سے نجات پا سکتا ہے، اس وقت تک دوسرے لوگوں سے مدد طلب نہیں کرتا، اور جب تک وہ مخلوق سے امداد و اعانت اور حاجت روائی پاتا ہے تو وہ اپنے خالق کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ جب خالق و مالک بھی اس کی نجات نہ دے، تب وہ اس کے در پر گر پڑتا ہے اور آہ و زاری کرتا ہے اور ہمیشہ اسی سے امیدِ رحمت باندھے ہوئے خوف و رجا کی کیفیت سے دو چار رہتا ہے۔ جب اس پر بھی اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبولیت نہیں بخشتا تو وہ تمام ظاہری اسباب سے تعلق توڑ بیٹھتا ہے۔ ایسے میں اس پر قضا و قدر کا عمل جاری ہو جاتا ہے جو اسے تمام اسباب و علائق سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ خود مٹ جاتا ہے اور روح باقی رہتی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے، اسے فاعلِ حقیقی ہی کا عمل جانتا ہے۔ اس طرح وہ توحیدِ کامل کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ الغرض وہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ فاعلِ حقیقی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ہر حرکت و سکون اسی کی مرضی کے تابع ہے۔ خیر و شر، سود و زیاں، جود و سخا، اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح نفع و نقصان، موت و حیات، عزت و ذلت اور دولت مندی یا محتاجی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ایسی حالت میں بندہ خود کو دستِ قضا و قدر میں اس طرح تمام اختیاراتِ بشریٰ سے عاری پاتا ہے جیسے دایہ کے ہاتھوں میں ایک شیر خوار بچہ، غسال کے ہاتھوں میں میت یا جیسے سوار کے ہاتھ میں لگام کہ جدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ بالکل اسی طرح بندہ اپنے طور پر کوئی حرکت نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی دوسری چیز کو حرکت میں لا سکتا ہے۔ بلکہ اسے خود ایک حالت سے دوسری حالت، ایک صفت سے دوسری صفت اور ایک وضع سے دوسری وضع میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تو وہ اپنے مالکِ حقیقی ےک حکم کے تابع اور اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اپنے پروردگار کے حکم اور ذات کے سوا نہ کچھ اور دیکھتا ہے، نہ جانتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو اسی کی نگاہِ قدرت سے اور جو کچھ سنتا یا جانتا ہے، وہ اس کا کالام اور علم ہوتا ہے۔ وہ اس کی نعمت سے سرفراز اور اس کے قرب سے سعادت مند، اس کے جمال سے آراستہ و مشرف، اس کے وعدہ پر خوش، اس سے مطمئن، اس کی گفتگو سے مانوس اور غیر کی باتوں سے بیزار ہوتا ہے۔ وہ اس کے ذکر کا طالب ہے، اس کی پناہ کا چاہنے والا، اس سے استحکام پانے والا، اس پر توکل کرنے والا، اس کے نورِ معرفت سے ہدایت یافتہ، اس کے جامع نور میں ملبوس، اس کے عجیب و غریب علوم کا جاننے والا، اس کی قدرت کے اسرار و رموز سے با خبر ہوتا ہے۔ بندہ ذاتِ حق سے بنتا اور یاد رکھتا ہے، یہاں تک کہ اپنے خالق و مالک کی ان عطا کردہ تمام نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہے اور شکر بجا لاتا ہے، دعا میں مصروف رہتا ہے۔

 

مترجم: مولانا عبد الاحد قادری

Advertisements

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: