فتوح الغیب – مقالہ ۴


 

فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی

مقالہ ۴ – ترکِ خواہشات اور اللہ کی نعمتیں

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: إذا مت عن الخلق قيل لك رحمك الله وأماتك عن الهوى. وإذا مت عن هواك قيل رحمك الله وأماتك عن إرادتك ومناك. وإذا مت عن الإرادة قيل رحمك الله وأحياك حياة لا موت بعدها. وتغنى غنى لا فقر بعده. وتعطى عطاء لا منع بعده. وتراح براحة لا شقاء بعدها. وتنعم بنعمة لا بؤس بعدها. وتعلم علماً لا جهل بعده. وتؤمن أمناً لا خوف بعده. وتسعد فلا تشقى. وتعز فلا تذل. وتقرب فلا تبعد. وترفع فلا توضع. وتعظم فلا تحقر. وتطهر فلا تدنس. لتحقق فيك الأماني. وتصدق فيك الأقاويل. فتكون كبريتاً أحمر فلا تكاد ترى، وعزيزاً فلا تماثل، وفريداً فلا تشارك، ووحيداً فلا تجانس، وفرداً بفرد ووتراً بوتر، وغيب الغيب، وسر السر. فحينئذ تكون وارث كل نبي وصديق ورسول. بك تختم الولاية. وإليك تصير الأبدال. وبك تنكشف الكروب. وبك تسقى الغيوث. وبك تنبت الزروع. وبك يدفع البلاء والمحن عن الخاص والعام وأهل الثغور والراعي والرعايا والأئمة والأمة وسائر البرايا. فتكون شحنة البلاد والعباد. فتطلق إليك الرجل بالسعي، والرجال والأيدي بالبذل والعطاء، والخدمة بإذن خالق الأشياء في سائر الأحوال، والألسن بالذكر الطيب والحمد والثناء وجمع المجال. ولا يختلف فيك اثنان من أهل الإيمان، يا خير من سكن البراري وجال بها

{ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ}

 

ترجمہ: سیّدنا عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں۔ جب تو مخلوق کے تمام حالات سے اس طرح علیحدہ ہو جائے تو گویا تو ان کے لئے مر گیا ہے۔ تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ القاء کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیا ہے۔ تجھے تمام خواہشاتِ نفسانی سے بے نیاز کر دیا ہے۔ جب تو خواہشاتِ نفس سے اپنا تعلق ختم کر لے تو تجھے پردۂ غیب سے یہ الہام ہو گا کہ تیرے خالق و مالک نے اپنی رحمت سے نوازتے ہوئے تجھے تیرے ارادے اور آرزو سے میرا کر دیا ہے۔ جب تو اپنے ارادے آرزو سے بھی تعلق توڑ بیٹھے تو تجھے اپنے خالق و مالک سے یہ پیغام سنایا جائے گا کہ اس نے تجھے اپنی رحمت سے مشرف کر کے حیاتِ جاوداں بخش دی ہے۔

الغرض، جس وقت تو اپنے ارادے و آرزو کو بالا کر دے تو تجھے ایک ایسی زندگی بخش دی جائے گی کہ جس کے بعد کوئی موت نہیں۔ تجھے ایسا غنی کر دیا جائے گا جس کے بعد کوئی محتاجی نہ ہو گی۔ تجھے بخشش و عطا کی ایسی دولت سے مالا مال کر دیا جائے گا جو ہمیشہ باقی رہے گی۔ تجھے ایسی خوشبو سے ہمکنار کیا جائے گا کہ ان کے بعد پریشانی کا نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ تجھے اسی ناز و نعمت سے مالا مال کیا جائے گا کہ اس کے بعد کوئی محنت و سختی نہ ہو گی۔ تجھے علم کی وہ لا زوال دولت عطا کی جائے گی کہ اس کے بعد تمام جہالتیں ختم ہو جائیں گی اور تجھے اس طرح مامون کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد خوف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ تجھے نیک بخت بنایا جائے گا، بدبخت نہیں۔ تجھے عزت بخشی جائے گی، ذلت نہیں۔ تجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قُرب حاصل ہو گا، دوری نہیں ہو گی۔ تجھے ایسا عروج عطا کیا جائے گا جس کے بعد پستی نہیں ہو گی۔ اور تجھے ایسی عظمت دی جائے گی، پھر حقیر نہ کیا جائے گا۔ تجھے ایسے پاک کیا جائے گا، پھر نا پاک نہیں ہو گا۔

اس کے بعد لوگوں کی وہ تمام مرادیں اور آرزوئیں، جو تجھ سے چاہیں گے، پوری ہوں گی۔ اور لوگ جو کچھ بھی تیری مدح ثناء میں کہیں گے، وہ درست ہو گا۔پس تو ایسا اکسیر بن جائے گا۔ پھر تو اپنے مقام کو پا لے گا کہ کوئی تیرے رتبے کو نہیں پا سکے گا اور تو ایسا بزرگ اور صاحبِ عظمت ہو گا کہ کوئی تیری مثل نہ ہو گا۔ اور ایسا نادرِ روزگار ہو گا، کوئی رتبہ ہم رتبہ نہ ہو گا۔ اور تو ایسا بے نظیر اور بے مثال ہو گا کہ کوئی تجھ جیسا نہ ہو گا۔ تو یگانوں کو یگانہ، تنِ تنہا مستور سے مستور اور رازوں کا راز ہو جائے گا۔ 

ایسی صورت میں تو ہر رسول، نبی اور صدیق کا وارث ہو گا۔ تجھے ولایت میں کمال حاصل ہو گا۔ اور ابدال تجھ سے کسبِ فیض حاصل کریں گے۔ تجھ سے لوگوں کی مشکلات حل ہوں گی۔ تیری دعا سے بارانِ رحمت کا نزول ہو گا۔ تیری برکت سے کھیتیاں اگائی اور سر سبز و شادات کی جائیں گی۔ تیری دعا سے ہر خاص و عام، اہلِ سرحد، رعایا و حکام، حاکم و محکومِ ائمہ امت، الغرض، تمام مخلوقاتِ آفات و بلیات دور کی جائیں گی۔ ایسے میں تو شہروں اور ان کے باشندوں کا حاکم ہو گا۔ 

پس لوگ تجھ سے فیض حاصل کرنے کے لئے تیری طرف جوق در جوق دوڑتے چلے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تیرے آگے عطیے اور نذرانے خدمت میں پیش کرنے کے لئے دور دور سے آئیں گے۔ اور ان کی زبانیں ہر جگہ تیری مدح و ثناء بطریقِ احسن کرتی پھریں گی۔ اور تیری عظمت اور نشان کے متعلق کہیں اہل ایمان کو کوئی اختلاف نہیں ہو گا۔

آبادیوں اور ویرانیوں کے مکینوں میں سے تیری ذات پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔ اللہ کی ذات صاحبِ فضل و عظیم ہے۔

 

مترجم: مولانا عبد الاحد قادری

Advertisements

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: