فتوح الغیب – مقالہ ۶


 

فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی

مقالہ ۶ – مخلوقات سے لا تعلقی

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: افن عن الخلق بإذن الله تعالى، عن هواك بأمر الله تعالى

{وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ} المائدة ۲۳.

 

وعن إرادتك بفعل الله تعالى. وحيىئذ تصلح أن تكون وعاء لعلم الله تعالى. فعلامة فنائك انقطاعك عنهم وعن التردد إليهم واليأس مما في أيديهم. وعلامة فنائك عن هواك ترك التكسب والتعلق بالسبب في جلب النفع والضرر. فلا تحرك ولا تعتمد عليك ولا لك ولا تذب عنك ولا تنتصر لنفسك. تكل ذلك كله إلى الله تعالى لأنه تولاه أولاً فيتولاه آخراً كما كان موكولاً إليه في حال كونك مغيبا في الرحم، وكونك رضيعاً طفلاً في مهدك.

وعلامة فنائك عن إرادتك بفعل الله تعالى أنك لا تريد مراداً قط، ولا يكون لك غرض، ولا يبقي لك حاجة ولا مرام. فإنك لا تريد مع إرادة الله سواها، بل يجري فعل الله فيك. فتكون أنت عند إرادة الله وفعله ساكن الجوارح، مطمعن الجنان، منشرح الصدر، منور الوجه، عامر البطن، غنياً عن الأشياء بخالقها. تقلبك يد القدرة، ويدعوك لسان الأزل، ويعلمك ربُّ الْمِلَل، ويكسوك أنواراً منه والحلل، وينزلك من أولي العلم الأول. فتكون منكسراً أبداً. فلا يثبت فيك شهوة وإرادة كالإناء المنثلم الذي لا يثبت فيه مائع وكدر. فتنقى عن أخلاق البشرية، فلن يقبل باطنك شيئاً غير إرادة الله عزَّ وجلَّ. فحينئذ يضاف إليك التكوين وخرق العادات، فيرى ذلك منك في طاهر الفعل والحكم، وهو فعل الله وإرادته حقاً في العالم. فتدخل حينئذ في زمرة المنكسرة قلوبهم الذين كسرت إرادتهم البشرية وأزيلت شهواتهم الطبيعية. فاستؤنفت لهم إرادة ربانيه، كما قال النبي صلى الله عليه وسلم:

(حبب إلي من دنياكم ثلاث: الطيب، والنساء، وجعلت قرة عيني في الصلاة)

فأضيف ذلك بعد أن خرج منه وزال عنه تحقيقاً بما أشرنا، وتقدم.

قال الله تعالى في حديثه القدسي: “أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي”. فإن الله تعالى لا يكون عندك حتى تنكسر جملة هواك وإرادتك. فإذا انكسرت ولم يثبت فيك شيء ولم يصلح فيك شيء، أنشأك الله فجعل فيك إرادة فتريد بتلك الإرادة. فإذا صرت في الإرادة المنشأة فيك، كسرها الربّ تعالى بوجودك فيها، فتكون منكسر القلب أبداً. فهو لا يزال يجدد فيك إرادة ثم يزيلها عند وجودك فيها هكذا إلى أن يبلغ الكتاب أجله، فيحصل اللقاء. فهذا هو معنى “أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي”. ومعنى قولنا “عند وجودك فيها” هو ركونك وطمأنينتك إليها.

قال الله تعالى في حديثه القدسي الذي يرويه صلى الله عليه وسلم: (لا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه. فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها) وفي لفظ آخر (فبي يسمع، وبي يبطش، وبي يعقل). فهذا حالة الفناء، لا غير.

فإذا فنيت عنك وعن الخلق، والخلق إنما هو خير وشر، فلم ترج خيرهم ولا تخاف شرهم، بقي الله وحده كما كان. ففي قدر الله خير وشر. فيؤمنك من شر القدر ويغرقك في بحار خيره، فتكون وعاء كل خير، ومنبعاً لكل نعمة وسرور وحبور وضياء أمن وسكون.

فالفناء والمنى والمبتغى والمنتهى حد ومرد ينتهي إليه مسير الأولياء. وهو الاستقامة التي طلبها من تقدم من الأولياء والأبدال أن يفنوا عن إرادتهم وتبدل بإرادة الحق عزَّ وجلَّ، فيريدون فإرادة الحق أبداً إلى الوفاة. فلهذا سموا أبدالاً رضي الله عنهم. فذنوب هؤلاء السادة أن يشركوا إرادة الحق بإرادتهم على وجه السهو والنسيان وغلبة الحال والدهشة، فيدركهم الله تعالى برحمته بالتذكرة واليقظة، فيرجعوا عن ذلك ويستغفروا ربهم. إذ لا معصوم عن الإرادة إلا الملائكة، عصموا عن الإرادة. والأنبياء عصموا عن الهوى. وبقية الخلق من الإنس والجن المكلفين، لم يعصموا منها، غير أن الأولياء بعضهم يحفظون عن الهوى، والأبدال عن الإرادة. ولا يعصمون منهما على معنى يجوز في حقهم الميل إليهما في الأحيان. ثم يتدارك الله عزَّ وجلَّ باليقظة برحمته.

 

ترجمہ: حضرت قطبِ ربانی نے ارشاد فرمایا:

خود کو خلق سے اس طرح منقطع کر لے کہ کائنات میں جو کچھ ہو تو اُسے تقدیر و مشیت سمجھے۔ اپنی خواہشات کو امرِ خداوندی

{وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ} المائدة ۲۳.

کے ذریعے ترک کر دے اور اپنے ارادوں کو افعال و تدبیرِ خداوندی میں فنا کر دے تو تیرے اندر علمِ خدا کا محل بن جانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ خلقِ خدا سے فنا ہو جانے کی علامت ان سے تیرا کٹ جانا، ان کے ہاں آنے جانے سے اجتناب کرنا اور ان کی چیزوں کے حصول سے خود کو مایوس کر دینا ہے۔

تیرے خواہشات سے فنا ہونے کا مطلب حصولِ نفع اور دفعِ ضرر کے سلسلے میں سبب اور کسب کو چھوڑ دینا ہے۔ اس کے بعد تیری حالت ایسی ہو جانی چاہیے کہ تو اپنے لیے کوئی حرکت، اپنے اوپر کسی قسم کا بھروسہ، خود سے ضرر کو دور کرنے کی کوشش اور اپنے نفس کی کوئی مدد نہ کرے بلکہ اِن تمام اُمور کو اپنے رب کے حوالے کر دے کیونکہ وہی پہلے بھی ان کا ذمہ دار تھا اور اب بھی رہے گا۔ جیسے کہ یہ تمام اُمور اس وقت بھی اس کے ذمے تھے جب کہ تو رَحمِ مادر میں پوشیدہ اور گہوارے میں پڑا دودھ پیتا بچہ تھا۔

اپنے ارادے کو فعلِ خداوندی میں فنا کر دینے کا مفہوم یہ ہے کہ تو نہ کسی مراد کا ارادہ کرے اور نہ تیری کوئی غرض ہو۔ اسی طرح نہ تیری کوئی حاجت باقی رہے اور نہ کوئی آرزو کیونکہ ایسے میں تو ارادۂ خدا کے ساتھ متعلق رہتے ہوئے اس کی چاہت کے سوا کچھ بھی نہیں چاہے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل تجھ میں اس طرح جاری ہو جائے گا کہ تو ارادہ و فعلِ خدا کے سامنے ساکت و جامد، مطمئن، فراخ سینہ، روشن چہرہ، اپنے باطن میں شاد و آباد، خدا سے تعلق میں تمام چیزوں سے بے پروا ہو جائے گا۔ پھر تیرا مقام یہ ہو گا کہ دستِ قدرت تجھے جنبش میں لائے گا، زبانِ ازل تجھے آواز دے گی، پروردگارِ عالم تجھے اپنے علم سکھلا کر نورِ معرفت کا خلعتِ نورانی پہنا دے گا اور تجھے اپنے دلکش زیورات سے آراستہ کر کے سلفِ صالحین اور عارفین متقدمین کے مقامات پر فائز کر دے گا۔ پھر تیرا نفس ایسا شکست خوردہ ہو جائے گا کہ اس میں کوئی ارادہ یا خواہش ٹھہر نہ سکے گی، جیسے کسی ٹوٹے ہوئے برتن میں نہ تو صاف پانی ٹھہرتا ہے نہ گدلا۔ جب تو تمام علائقِ بشری سے دور ہو جائے تو تیرا باطن خدا کے سوا کسی اور چیز کو نہیں چاہے گا۔ اُس وقت تجھے تکوین و کرامات کے مقام پر فائز کر دیا جائے گا، جو ظاہری طور پر تو تجھ سے صادر ہو گی مگر در حقیقت اس کا تعلق فعل اور ارادۂ خداوندی سے ہو گا۔ پھر تجھے ان شکستہ دلوں کے گروہ میں شامل کر دیا جائے گا کہ جن کی تمام تر خواہشاتِ بشریہ شکستہ اور تمام طبعی میلانات زائل ہو چکے تھے، پھر ان میں نئے سرے سے ارادۂ ربانی اور خواہشاتِ زندگی پیدا کر دی گئیں۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (حبب إلي من دنياكم ثلاث: الطيب، والنساء، وجعلت قرة عيني في الصلاة)

(تمہاری دنیا میں سے میرے لیے تین چیزوں کو پسندیدہ بنایا گیا ہے: خوشبو، عورتیں اور نماز کہ جسے میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا گیا ہے)۔

حدیثِ متذکرہ بالا میں جو اُمور بیان کیے گیے ہیں، اُن کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس وقت منسوب کیا گیا جبکہ وہ اُن سے اس حیثیت سے آگے نکل گیے تھے کہ یہ خواہشات اُن کا بشری مطالبہ نہ تھیں۔ اس امر کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں۔

فرمانِ خداوندی ہے، ’’میں ان لوگوں کے پاس ہوں جن کے دل میری محبت میں شکستہ ہو چکے ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تیرے قریب اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ تو اپنا سارا وجود، ارادے اور خواہشات کو اس کی اُلفت و یاد میں فنا نہ کر دے۔ جب تو تمام کا تمام اس کی راہِ تلاش میں اپنے وجود سے ہاتھ دھو بیٹھے تو تیرے اندر کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اور اپنے رب کے سوا تیرے اندر کسی چیز کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی تو تجھے اللہ تعالیٰ نئی زندگی عطا فرمائے گا۔ وہ تیرے اندر اپنے ارادے کو راسخ کر دے گا اور تو جو کچھ بھی چاہے گا، اس کا باعث یہی ارادۂ خداوندی ہو گا۔ پھر جب خدا کے عطا کردہ اس نئے ارادے میں تیرے نفس کی ادنیٰ آمیزش بھی ہو گئی تو وہ اسے توڑ ڈالے گا اور تو پھر شکستہ دل ہو کر رہ جائے گا۔ تیرے قلب کی یہ شکستگی ابد تک جاری رہے گی۔ تیرا رب تیرے ارادے کی تجدید کرتا رہے گا اور اسے زائل بھی کرتا رہے گا، حتیٰ کہ تقدیر کے لمحات تکمیل پا لیں گے اور تجھے دیدارِ الٰہی کے فیض سے مشرف کیا جائے گا۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے، یہی أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي کا مفہوم ہے۔ اور ہمارے قول عند وجودك فيها سے مراد تیرا ارادۂ نو سے مطمئن ہونا اور اس سے استحکام حاصل کرنا ہے۔

حدیثِ قدسی ہے: لا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه. فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها)

اور ایک دوسری روایت کے مطابق وبي يسمع، وبي يبطش، وبي يعقل

(میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اُسے اپنا دوست بنا لیتا ہوں اور جب وہ میری دوستی کے دائرے میں داخل ہو جائے تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ جس سے وہ پکڑتا ہے؛ اس کے پاؤں جن سے وہ چلتا ہے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے وہ میرے ہی ذریعے سنتا، دیکھتا، پکڑتا اور سوچتا ہے)۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حالت فنا کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔

جب تو خود اپنی ذات اور مخلوق، جو کہ خیر و شر کا مرجع ہیں، سے بے نیاز ہو کر ان کے خیر و شر سے بے خوف ہو جائے تو اس وقت صرف اللہ باقی رہ جائے گا، جیسا کہ پیدا کرنے سے پہلے تھا۔ خیر و شر دونوں خدا کے دستِ قدرت میں ہیں۔ وہی تجھے شر سے محفوظ کر کے اپنی بے پایاں خیر سے مشرف فرمائے گا جس کے نتیجے میں تو اس کی طرف سے ہر خیر کا محل، ہر نعمت، سرور، مسرت، نور، ضیاء اور امن و سکون کا سر چشمہ بن جائے گا۔

گویا فنا ہی وہ آرزو، خواہش اور منزل ہے کہ سیرِ اولیاء کی تان اسی پر آ کر ٹوٹتی ہے اور یہی وہ ثابت قدمی اور استقامت کی دولت ہے جس کی طلب میں ماضی کے تمام اولیائے کرام اور ابدال علیھم السلام محو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ارادوں کو خدا کے ارادے میں بدل لیا یہاں تک کہ ساری زندگی ارادۂ حق جلّ جلالہٗ ہی کے تابع رہے، اور اسی لیے وہ ابدال کے نام سے موسوم ہوئے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو ربّ ذو الجلال کے ارادے میں اپنے ارادے کی شرکت گناہ سمجھتے ہیں۔ اور اگر سہو و نسیان یا غلبۂ حال کے باعث کبھی وہ ایسا کر بھی لیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فوراً انہیں اس لغزش پر متنبہ فرما دیتا ہے اور انہیں ہوشیار کر دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی اس لغزش سے رجوع کر لیتے ہیں، کیونکہ فرشتوں کے سوا ارادہ سے کوئی معصوم نہیں۔ فرشتے ارادے سے پاک اور انبیاء علیہم السلام خواہشِ نفس سے معصوم ہوتے ہیں۔ اور باقی تمام مکلف مخلوقات، جنات اور انسان خواہش و ارادہ سے معصوم نہیں ہوتے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اولیائے کرام خواہشِ نفس، اور ابدال ارادے سے محفوظ ہوتے ہیں؛ معصوم نہیں۔ اس لیے کہ ان حضرات کا کسی وقت بھی خواہشِ نفس اور ارادے کی طرف مائل ہونے کا جواز موجود ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ایسی صورت میں خداوند تعالیٰ ان کو بیداری میں اپنی رحمتِ کاملہ سے مطلع فرما کر روک لیتا ہے۔

 

(مترجم: سیّد محمد فاروق القادری)

Advertisements

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: