فتوح الغیب – مقالہ ۷


 

فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی

مقالہ ۷ – احوالِ معرفت

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: أخرج من نفسك وتنح عنها. وانعزل عن ملكك وسلم الكل إلى الله. فكن بوابه على باب قلبك. وامتثل أمره في إدخال من يأمرك وانته بنهيه في صد من يأمرك يصده. فلا تدخل الهوى قلبك بعد أن خرج منه. فإخراج الهوى من القلب بمخالفته وترك متابعته في الأحوال كلها. وإدخاله في القلب بمتابعته وموافقته. فلا ترد إرادة غير إرادته. وغير ذلك منك تمن وهو ادي الحمقى. وفيه حتفك وهلاكك وسقوطك من عينه وحجابه عنك. أحفظ أبداً أمره وانته أبداً بنهيه وسلم لمقدوره ولا تشركه بشيء من خلقه. فإرادتك وهواك وشهواتك كلها خلقه. فلا ترد ولا تهوى ولا تشته كيلا تكون مشركاً. قال الله تعالى

{وَعَلَى اللَّهِ {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا}. الكهف 110.

 

ليس الشرك عبادة الأصنام فحسب. بل هو متابعتك هواك وأن تختار مع ربك شيئاً سواه من الدنيا وما فيها والآخرة وما فيها. فما سواه عزّ وجلّ غيره. فإذا ركنت إلى غيره فقد أشركت به عزّ وجلّ. فاحذر ولا تركن، وخف ولا تأمن، وفتش فلا تغفل فتطمئن. ولا تضف إلى نفسك حالاً ومقاماً ولا تدع شيئاً من ذلك. فإن إعطيت حالاً أو أقمت في مقام فلا تختر شيئاً واحداً من ذلك. فإن الله {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ}. الرحمن 29. في تغير وتبديل. وإنه يحول بين المرء وقلبه. فيزيلك عما أخبرت به، ويغيرك عما تخيلت ثباته وبقاءه، فتخجل عند من أخبرته بذلك. بل أحفظ ذلك فيك ولا تعده إلى غيرك. فإنه كلي الثبات والبقاء، فتعلم أنه موهبة وتسأل التوفيق للشكر واستر رؤيته. وإن كان غير ذلك كان فيه زيادة علم ومعرفة ونور وتيقظ وتأديب. قال الله عزَّ وجلَّ:

{مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}. البقرة 106.

 

وأما في الباطن والعلم والحال فيما بينه وبين الله عزَّ وجلَّ فكان يقول: (إنه ليعان على قلبي فأستغفر الله في كل يوم سبعين مرة) ويروى (مائة مرة). وكان صلى الله عليه وسلم ينقل من حالة إلى أخرى ويسير به في منازل القرب وميادين الغيب ويغير عليه خلع الأنوار فتبين الحالة الأولى عند ثانيها ظلمة ونقصاناً وتقصيراً في حفظ الحدود. فيلقن الاستغفار لأنه أحسن حال العبد، والتوبة، في سائر الأحوال، لأن فيها اعترافه بذنبه وقصوره. وهما صفتا العبد في سائر الأحوال. فهما وراثة من أبي البشر آدم عليه السلام إلى المصطفى صلى الله عليه وسلم حين اعترت صفاء حاله ظلمة النسيان للعهد والميثاق وإرادة الخلود في دار السلام ومجاورة الحبيب الرحمان المنان ودخول الملائكة الكرام عليه بالتحية والسلام. فوجد هناك مشاركة إرادته لإرادة الحق. فانكسرت لذلك تلك الإرادة، وزالت تلك الحالة، وانعزلت تلك الولاية، فانهبطت تلك المنزلة، وأظلمت تلك الأنوار، وتكدر تلك الصفاء. ثم تنبه وذكر صفي الرحمان فعرف الاعتراف بالذنب والنسيان ولقن الإقرار، فقال:

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}. الأعراف 23.

 

فجاءت أنوار الهداية وعلوم التوبة ومعارفها والمصالح المدفونة فيها ما كان غائباً من قبل فلم تظهر إلا بها. فبدلت تلك الإرادة بغيرها والحالة الأولى بأخرى. وجاءته الولاية الكبرى والسكون في الدنيا، ثم في العقبى. فصارت الدنيا له ولذريته منزلاً، والعقبى لهم موئلاً ومرجعاً وخلداً. فلك برسول الله وحبيبه المصطفى وأبيه آدم صفي الله عليهم الصلاة والسلام عنصر الأحباب والأخلاء أسوة في الاعتراف بالقصور والاستغفار في الأحوال كلها.

 

ترجمہ: حضرت محبوبِ سبحانی نے ارشاد فرمایا:

اپنے نفس کے دائرے سے باہر نکل کر اس سے کنارہ کش ہو جا۔ اپنی ہستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور اپنے تمام معاملات کو خدا کے سپرد کر کے اپنے دل کے دروازے پر اس کا دربان بن جا۔ وہ جس چیز کی اجازت دے اُسے دل میں آنے دے اور جس سے روک دے اسے اندر آنے سے باز رکھ اور خواہشات کو دل سے نکال باہر کرنے کے بعد دوبارہ داخل ہونے سے روک دے۔ خواہشات کا دل سے خارج کر دینا ہر حالت میں ان کی مخالفت اور عدمِ پیروی سے عبارت ہے جبکہ ان کے داخل کر لینے سے مراد خواہشاتِ نفسانی کی اتباع ہے۔ اس لیے تجھے چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ارادے سے ہی ہر چیز کا ارادہ کرے اور جو کچھ تو اس کے ارادے کے بغیر چاہے گا وہ تو فقط آرزو ہو گی اور آرزو میں رہنا جنت الحمقا میں رہنے کے مترادف ہے۔ اور یہ تیری موت و ہلاکت، اس کی نظروں سے گرنے اور تیرے لیے اس سے حجاب کا باعث ہے۔ ہمیشہ حکمِ خداوندی بجا لاتا رہ اور امورِ ممنوعہ سے بچتا رہ اور جو کچھ اس نے تیرے لیے مقدر کر رکھا ہے اسے اسی کے سپرد کر دے۔ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک مت ٹھہرا۔ تیرا ارادہ، تیری خواہش اور تیری امنگیں سب اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ اس لیے تجھے چاہیے کہ کوئی ارادہ، خواہش یا امنگ ظاہر نہ کرے تاکہ اس سے تو شرک کا مرتکب نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{وَعَلَى اللَّهِ {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا}. الكهف 110.

 

(جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے)۔

شرک فقط صنم پرستی ہی نہیں بلکہ خواہشاتِ نفس کی اتباع اور خدائے عز و جل کے سوا دنیا و آخرت کی کسی چیز کو بھی چاہنا شرک کے دائرے میں آ جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کا غیر ہے۔ لہٰذا جب تو اس کے سوا غیر کی طرف مائل ہو گا، تو بِلا شُبہ تو نے غیر کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا۔ اس لیے اس کے ما سوا سے اجتناب کر اور آرام و آسائش میں نہ پڑ۔ خدا سے ڈرتا رہ؛ بے خوف نہ بن۔ طلب و جستجو میں رہ؛ غفلت نہ کر۔ یہ چیز تجھے اطمینان بخشے گی۔ اپنے نفس کی طرف کسی حال اور مقام کی نسبت نہ کر اور نہ ہی ان میں سے کسی کا دعویٰ کر۔ اگر تجھے حال کی دولت سے مالا مال کر دیا جائے یا کوئی مقام عطا کر دیا جائے تو اسے کسی دوسرے پر ہرگز ظاہر نہ کرنا کیونکہ حالات بدلنے کے سلسلے میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان جلوہ گر ہے۔ تو کوئی پتہ نہیں کہ کب وہ تجھے اس مقام یا حال سے معزول کر دے جس کے بارے میں تو نے دوسروں کو بتا رکھا ہو۔ اور کیا معلوم کہ وہ تجھے اس مقام یا حال سے تبدیل کر دے، جس کی پائیداری کا تو نے تصور کر رکھا ہے، اور اس طرح تجھے ان لوگوں کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑے جنہیں تو نے اس بارے میں با خبر کر رکھا تھا۔ لہٰذا تو اس کے بارے میں کسی سے کچھ مت کہہ اور اسے اپنے تک ہی محدود و محفوظ رکھ۔ اگر خدا کا عطا کردہ مقام یا حال ہمیشہ کے لیے تجھے حاصل ہو تو اُسے اس کی بخشش و عطا سمجھ اور خدا کے حضور توفیق، شکر اور اس میں مزید اضافے کی دعا کر۔ اگر یہ نعمت مستقل طور پر حاصل نہ ہو تو بھی اس میں اللہ کی جانب سے علم، معرفت، نور، بیداری اور ادب کا اضافہ مطلوب ہو گا۔ فرمانِ خداوندی ہے:

{مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}. البقرة 106.

 

(جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں یا بُھلا دیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی لے آئیں گے۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے)۔

تو خدائے لم یزل کر اس کی قدرت میں عاجز نہ جان، اور نہ ہی اس کی تدبیر و تقدیر پر نکتہ چینی کر۔ اس کے وعدے پر شک نہ کر۔ اور تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُسوۂ حسنہ ہی نمونۂ کردار ہونا چاہیے۔ کئی آیات اور قرآنی سورتیں، جن پر عمل کیا جا رہا ہے، محرابوں میں تلاوت کی جاتی ہیں اور مصاحف میں لکھی ہوئی تھیں، کو منسوخ کر کے ان کی جگہ دوسری آیاات نازل کر کے آں حضرت ﷺ کو اُن کی طرف متوجہ کیا گیا۔ یہ تو ظاہری شریعت کی بات تھی۔ اور جہاں تک خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان علمِ باطن اور باطنی حال کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں خود آں حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے دل پر ایک حجاب سا ڈال دیا گیا ہے تو میں ایک دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ آپ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کیے جاتے تھے، یہاں تک کہ دوسری حالت پھر ایک اور حالت سے بدل جاتی تھی۔ آپ کو غیب کی وادیوں اور قرب کی منزلوں کی طرف لے جایا جاتا اور بدل بدل کر آپ کو نورانی خلعتیں پہنائی جاتی تھیں۔ اس دوران آپ کو پہلی حالت دوسری سے فرو تر اور تاریک نظر آتی اور پہلی حالت میں حدودِ ادب میں آپ کو کمی کا احساس ہوتا تھا۔ ایسے میں آپ کو توبہ و استغفار کی تلقین کی جاتی کیونکہ استغفار بندے کے حالات میں بہترین حالت اور اس کے معاملات کے لحاظ سے احسن ہے، اس لیے کہ توبہ میں بندے کی طرف سے اعترافِ گناہ اور اعترافِ قصور ہوتا ہے۔ توبہ و استغفار بندے کی وہ صفات ہیں جو اسے ابو البشر آدم علیہ السلام سے ورثے میں ملی ہیں۔ جب اُن کے حال کی پاکیزگی اور صفائی پر عہد و میثاق بھول جانے کی تاریکی چھا گئی اور انہوں نے جنت میں ہمیشہ رہنے، قربِ خداوندی اور اپنے پاس فرشتوں کے مؤدبانہ حاضر ہونے کی خواہش کی تو اس وقت ان کی خواہشِ نفس اور ارادہ ذاتِ حق تعالیٰ کے ساتھ شریک ہو گیا، جس کے باعث ان کے اس ارادے کو زائل کر دیا گیا۔ اُن کی وہ پہلی حالت باقی نہ رہی اور منزلِ قرب سے معزول کر دیے گیے اور اُن کی وہ قدر و منزلت نہ رہی۔ ان کے انوار ظلمت سے بدل گیے اور صفائے باطن پر تکدر چھا گیا۔ پھر انہیں اس سہو و نسیان پر متنبہ کر کے ان سے اس گناہ اور نسیان کا اعتراف کرایا گیا اور انہیں اس قصور و نقصان کے اقرار کی تلقین کی گئی۔ اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا:

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}. الأعراف 23.

 

(اے ہمارے رب، ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تَو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان پانے والوں میں سے ہوئے)۔

اس کے بعد انہیں نورِ ہدایت سے مشرف کیا گیا۔ انہیں توبہ کے ان معارف و نکات سے آگاہ کیا گیا جو پہلے ان سے مخفی تھے اور توبہ ہی سے ان پر منکشف ہوئے۔ پھر انہیں توبہ کی توفیق بخشی گئی تاکہ وہ توبہ کر لیں، جس کی برکت سے ان کا ارادہ ارادۂ حق سے بدل گیا۔ پہلی حالت بدل کر اس کی جگہ انہیں اس سے بہتر حالت عطا کی گئی، ولایتِ کبریٰ کی نعمت سے نوازا گیا اور ان کی دنیوی اور اُخروی زندگی کو دولتِ سکون سے مالا مال کر دیا گیا۔ دنیا اُن کے اور ان کی اولاد کے لیے رہنے کا ٹھکانہ اور عالمِ آخرت اُن کے لیے دائمی جائے قرار بنا دیا گیا۔ الغرض تیرے لیے اپنے قصور کے اعتراف، انکسار اور تمام حالات میں استغفار کے سلسلے میں حبیبِ مصطفیٰ محمد رسول الہ ﷺ اور ان کے پدرِ بزرگوار حضرت آدم صفی اللہ علیہ السلام کی ذاتِ قدسیہ کو اُسوہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

 

(مترجم: سیّد محمد فاروق القادری)

Advertisements

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: