فتوح الغیب – مقالہ ۱۰


فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی<

مقالہ ۱۰ – اتباعِ قرآن و سنت اور نفس کی کیفیات

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: إنما هو الله ونفسك وأنت المخاطب. والنفس ضد الله وعدوه. والنفس له خلقًا ومُلكًا. وللنفس ادعاء وتمن وشهوة ولذة بملابساتها. فإذا واقفت الحق عزَّ وجلَّ في مخالفة النفس وعدوانها فكنت لله خصمًا على نفسك كما قال الله عزَّ وجلَّ لداود عليه السلام: “يا داود أنا بدك اللازم فألزم بدك، العبودية أن تكون خصمًا على نفسك”. فتحققت حينئذ موالاتك وعبوديتك لله عزَّ وجلَّ، وأتتك الأقسام هنيئًا مريئًا مطيب وأنت عزيز ومكرم، وخدمتك الأشياء وعظمتك وفخمتك، لأنها بأجمعها تابعة لربها موافقة له إذ هو خالقها ومنشئها، وهي مقررة له بالعبودية. قال الله تعالى: {وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ}. الإسراء ٤٤. {فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ}. فصلت ١١. فالعبادة كل العبادة في مخالفة نفسك. قال الله تعالى: {وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ}. ص ٢٦. وقال لداود عليه السلام: “أهجر هواك فإنه منازع”.

والحكاية المشهورة عن أبي يزيد البسطامي رحمه الله لما رأى ربّ العزة في المنام فقال له: كيف الطريق إليك؟ قال: اترك نفسك وتعال. فقال: فانسلخت كما تنسلخ الحية من جلدها. فإذا الخير كله في معادتها في الجملة في الأحوال كلها. فإن كنت في حال التقوى فخالف النفس، بأن تخرج من حرام الخلق وشبهتهم ومنتهم والاتكال عليهم والثقة بهم والخوف منهم والرجاء لهم والطمع فيما عندهم من أحكام الدنيا. فلا ترج عطاياهم على طريق الهدية والزكاة والصدقة أو النذر. فاقطع همّك منهم من سائر الوجوه والأسباب حتى إن كان لك نسب ذو مال لا تتمن موته لترث ماله. فاخرج من الخلق جادًا وجعلهم كالباب يرد ويفتح، وشجرة توجد فيها ثمر تارة وتختل أخرى. وكل ذلك بفعل فاعل وتدبير مدبر وهو الله جلَّ وعلا، لتكون موحدًا للربّ. ولا تنس مع ذلك كسبهم لتخلص من مذهب الجبرية، واعتقد أن الأفعال لا تتم بهم دون الله لا تعبدهم وتنسى الله. ولا تقل فعلهم دون فعل الله فتكفر فتكون قدريًا. لكن قل هي الله خلقًا وللعباد كسبًا كما جاءت به الآثار، لبيان موضع الجزاء من الثواب والعقاب. وامتثل أمر الله فيهم فيهم. وخلص قسم منهم بأمره ولا تجاوزه فحكم الله قائم بجكمه عليك وعليهم. فلا تكن أنت الحاكم، وكونك معهم قدر والقدر ظلمة فادخل بالظلمة في المصباح وهو كتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم. لا تخرج عنهما فإن خطر خاطرأو وجد إلهام فاعرضه على الكتاب والسنة، فإن وجدت فيها تحريم ذلك مثل أن تلهم بالزنا والرياء ومخالطة أهل الفسق والفجور وغير ذلك من المعاصي، فادفعه عنك واهجره ولا تقبله ولا تعمل به، واقطع بأنه من الشيطان اللعين نعوذ بالله منه. وإن وجدت فيها إباحة كالشهوات المباحة من الأكل أو الشرب أو اللبس أو النكاح فاهجره أيضًا ولا تقبله، واعلم أنه من إلهام النفس وشهواتها وقد أمرت بمخالفتها وعداوتها. وإن لم تجد في الكتاب والسنة تحريمه وإباحته، بل هو أمر لا تعقله مثل السائق لك ائت موضع كذا وكذا، الق فلانًا صالحًا، ولا حاجة لك هناك ولا في الصالح لاستغناك عنه بما أولاك الله من نعمته من العلم والمعرفة، فتوقف في ذلك ولا تبادر إليه فتقول هذا إلهام من الحق جلَّ وعلا، فأعمل به بل انتظر الخير كله في ذلك وفعل الحق عزَّ وجلَّ بأن يتكرر ذلك الإلهام وتؤمر بالسعي، أو علامة تظهر لأهل العلم بالله عزَّ وجلَّ يعقلها العقلاء من الأولياء والمؤيدون من الأبدال. وإنما لم يتبادر إلى ذلك لأنك لا تعلم عاقبته وما يؤول الأمر إليه، وما كان فيه فتنة وهلاك ومكر من الله وامتحان، فاصبر حتى يكون هو عزَّ وجلَّ الفاعل فيك. فإذا تجرد الفعل وحملت إلى هناك واستقبلتك فتنة كنت محمولًا محفوظًا فيها، لأن الله تعالى لا يعاقبك على فعله. وإنما تتطرق العقوبة نحوك لكونك في الشيء. وإن كنت في حالة الحقيقة وهي حالة الولاية فخالف هواك واتبع الأمر في جملة.

واتباع الأمر على قسمين:

أحدهما أن تأخذ من الدنيا القوت الذي هو حق النفس وتترك الحظ، وتؤدي الفرض وتشتغل بترك الذنوب ما ظهر منها وما بطن.

والقسم الثاني ما كان يأمر باطن، وهو أمر الحق عزَّ وجلَّ، يأمر عبده وينهاه، وإنما يتحقق بهذا الأمر في المباح الذي ليس له حكم في الشرع على معنى، ليس من قبيل النهي ولا من قبيل الأمر الواجب، بل هو مهمل ترك العبد يتصرف فيه باختياره فسمي مباحًا. فلا يحدث للعبد فيه شيئا من عنده بل ينتظر الأمر فيه. فإذا أمر امتثل فتصير حركاته وسكناته بالله عزَّ وجلَّ، ما في الشرع حكمه فبالشرع. وما ليس له حكم في الشرع فبالأمر الباطن. فحينئذ يصير محقًا من أهل الحقيقة. وما ليس فيه أمر باطن فهو مجرد الفعل حاله التسليم. وإن كنت في حالة حق الحق وهو حالة المحو والفناء وهي حالة الأبدال المنكسري القلوب لأجله الموحدين العارفين أرباب العلوم والعقل السادة الأمراء الشحن خفراء الخلق خلفاء الرحمن وأخلائه وأعيانه وأحبائه عليهم السلام، فإتباع الأمر فيها بمخالفتك إياك بالتبري من الحول والقوة. وأن لا يكون لك إرادة وهمة في شيء البتة دنيا وعقبى، فتكون عبد المَلك لا عبد الْمُلْك وعبد الأمر لا عبد الهوى كالطفل مع الظئر، والميت الغسيل مع الغسل، والمريض المقلوب على جنبيه بين يدي الطبيب فيما سوى الأمر والنهي. والله أعلم.

ترجمہ: شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایک تو اللہ وحدہ لا شریک کی ذات ہے اور ایک تیرا نفس۔ نفس اللہ تعالیٰ کا مخالف اور دشمن ہے اور باقی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے تابع و فرمانبردار ہیں۔ اور نفس بھی حقیقۃً اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ملکیت ہے۔ تاہم اس کو لذت و شہوت کی وجہ سے کئی دعوے ہیں۔ جب تو اللہ تعالیٰ کی اتباع کرتے ہوئے اپنے نفس کی مخالفت کرے گا تو تُو اللہ تعالیٰ کا ہو کر نفس کا دشمن بن جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیّدنا داؤد علیہ السلام سے فرمایا: اے داؤد! تیرا منتہائے مقصود میں ہی ہوں۔ اس لیے تو منتہائے مقصود کو مضبوطی سے تھام لے۔ عبودیت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے نفس کی خواہشات کا دشمن ہو جا۔ اس وقت تیری دوستی اور بندگی اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہو گی اور تیرے پاس آسان صافی، خوشگوار اور پاکیزہ رزق آئیں گے اور تو عزیز مکرم ہو گا۔ ہر چیز تیری خدمت کرے گی، تیری تعظیم کرے گی۔ تیری ہیبت ان پر طاری ہو گی کیونکہ وہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار اور تابع ہیں۔ اس لیے کہ وہ ان کا خالق ہے اور ان کو پیدا کرنے والا ہے۔ اور یہ تمام چیزیں اس کے حضور بندگی کا اقرار کرتی ہیں۔:

جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے۔ ہاں، تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ (کنز الایمان)

اسی طرح دوسری جگہ ارشادِ خداوندی ہے:

ترجمہ: تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہئے یا نا خوشی سے۔ دونوں نے عرض کیا ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے۔ (کنز الایمان)

عبادتِ کاملہ نفس کی مخالفت کا نام ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ (کنز الایمان)

اور سیّدنا داؤد علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ: یعنی خواہش کو چھوڑ دے کیونکہ خواہش فساد کا باعث ہے۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ایک مشہور حکایت ہے کہ جب بایزید خواب میں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو انہوں نے عرض کیا مولا کریم تیری بارگاہ تک رسائی کا کیا طریقہ ہے۔ ارشاد ہوا اپنی خواہشاتِ نفس کو چھوڑ کر میری طرف آ جا۔ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں اپنے نفس کی خواہشات سے اس طرح باہر نکل آیا جیسے سانپ اپنی کینچلی اتار کر اس سے نکل آتا ہے۔

الغرض بھلائی اسی میں ہے کہ تمام حالات میں نفس سے دشمنی رکھی جائے۔ اور اگر تو پرہیزگار ہے تو نفس کا اس طرح مخالف ہو جا کہ لوگوں کے حرام اور مشبہ مال، احسان، بھروسہ، اعتماد، ان سے خوف، امیدوار مزید متاعِ دنیا میں سے جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے پوری طرح بے نیاز ہو جا۔ تو ان کی عطا بطورِ ہدیہ، زکوٰۃ، کفارہ یا نذر، جو بھی ہو، اس کی امید نہ کرھ۔ اپنے ارادہ کو ان کے ہر اعتبار اور سبب سے منقطع کر حتیٰ کہ اگر تیرا قریبی رشتہ دار مالدار ہو اور تو اس کی موت کی تمنا نہ کر تاکہ اس کے بع اس کے مال کا وارث ہو۔ کوشش کر کہ مخلوق سے کنارہ کش ہو جا اور انہیں اس دروازہ کی طرح سمجھ جو کبھی کھلتا ہے اور کبھی بند ہوتا ہے یا اس درخت کی مانند سمجھ جو کبھی پھل دیتا ہے اور کبھی نہیں۔ یہ سب کچھ فاعل کے فعل اور مدبر کی تدبیر سے ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے، تاکہ تو رب کو واحد جاننے والا ہو۔

اور اس کے ساتھ ساتھ بندوں کلے کسب کو فراموش نہ کرنا تاکہ عقائدِ جبریہ میں پڑنے سے بچ جائے۔ اور اس کے بات کا اعتقاد رکھ کہ مخلوق کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے بغیر پورے نہیں ہوتے تاکہ تو اپنے خدا کو بھول کر بندوں کی پرستش میں نہ لگ جائے۔ اور تو ان کے فعل کو انہیں کا فعل نہ سمجھ ورنہ تو کافر ہو کر فرقہ قدریہ میں شامل ہو جائے گا۔ لیکن تو کہہ کہ افعال اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور بندوں کا کسب ہیں جیسا کہ اس بارے میں احادیث آئی ہیں۔ اور بندوں کے معاملہ میں خدا تعالیٰ کی اطاعت کر اور اس کے حکم کے مطابق اپنا حصہ ان سے جدا کر لے اور پھر اس سے تجاوز نہ کر۔ اللہ تعالیٰ کا حکم قائم اور مخلوق اور تجھ پر حاکم ہے لہٰذا خود حاکم مت بن۔ مخلوق کے ساتھ تیرا اپنا مقدر ہے اور مقدر تاریکی ہے، اس لیے ظلمت میں چراغ لے کر داخل ہو اور وہ چراغ کتاب اللہ اور نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ کتاب و سنت کے احکام سے ہرگز باہر نہ نکل۔ اگر تیرے دل میں کوئی خطرہ لاحق ہو یا الہام پیدا ہو تو اسے کتاب و سنت کی روشنی میں دیکھ۔ اگر تو کتاب و سنت میں اس کی حرمت پائے جیسے تجھے زنا، سود، اہل فسق و فجور کے ساتھ میل جول اور اس کے علاوہ گناہ کا وسوسہ پیدا ہو تو اسے اپنے دے دور کر اور اس سے الگ ہو جا۔ اسے قبول نہ کر اور نہ اس پر عمل کر۔ اور یہ یقین کر لے کہ وہ شیطان مردود کی طرف سے ہے۔ اور اگر وہ شے یا الہام ایسے امور کے متعلق ہیں جو کتاب و سنت میں مباح ہیں، مثلاً کھانے پینے، لباس اور نکاح کی خواہشات تو انہیں بھی ترک کر دے، قبول نہ کر کیونکہ یہ بھی تیرے نفس اور اس کی خواہشات کا الہام ہے اور تجھے تو نفس و خواہشات سے دشمنی و مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر اس خدشے اور الہام کی کتاب و سنت میں حلت پائے اور نہ حرمت بلکہ وہ ایک ایسی بات ہو جسے تو نہیں سمجھ سکتا جیسے تجھے کہا جائے کہ فلاں جگہ جاؤ اور وہاں فلاں نیک شخص سے ملاقات کرو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و معرفت کی نعمت سے مالا مال کر کے تجھے بے نیازی کی جو دولت عطا فرمائی ہے اس کے پیشِ نظر وہاں جائے اور کسی سے ملنے کی تمہیں کوئی حاجت نہیں، تو ایسے میں ٹھہر جا اور وہاں جانے میں جلدی نہ کر اور دل میں سوچ کہ آیا یہ الہام اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اس پر عمل کروں۔ بلکہ اس کے اختیار کرنے میں تھوڑا انتظار کر۔ اور یہ الہام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا جبکہ یہ الہام بار بار دہرایا جائے اور تجھے جلدی جانے کا حکم دیا جائے یا کوئی ایسی علامت ظاہر ہو جو اہلِ معرفت پر ظاہر ہوا کرتی ہے جسے صاحب فہم فراست اولیاء اور صفتِ ادراک سے متصف ابدال ہی سمجھ پاتے ہیں۔ لہٰذا تجھے اس امر میں جلدی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ تجھے معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیا ہے اور نہ تجھے اس بات کا علم ہے کہ آزمائش کے طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتنہ، ہلاکت اور مکر و فریب موجود ہے۔ پس اس وقت تک صبر کر جب تک کہ خود اللہ تعالیٰ تیرے اندر اس کام میں متصرف نہ ہو جائے۔ جب تیرا عمل مٹ کر خالص فعلِ حق باقی رہ گیا اور اس صورت میں تجھے اس طرح محفوظ رکھا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر تجھے کبھی عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا کیونکہ عذاب در اصل کسی کام میں ارادہ و رضا اللہ تعالیٰ کے بغیر تیری دخل اندازی ہی کی وجہ سے آتا ہے۔ اور تو حقیقی حالت یعنی مقامِ ولایت پر فیض یاب ہوا تو اپنی خواہشات کی مخالفت کر اور تمام حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کر۔

امرِ الہٰی کی اتباع کی دو صورتیں ہیں:

پہلی یہ کہ تو دنیا سے اس قدر غذا حاصل کر جس سے نفس کا حق ادا ہو جائے اور لذات کو ترک کر کے فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہو جائے اوت تمام ظاہر و باطن گناہ ترک کر دے۔

اور دوسری صورت باطنی امر سے مامور ہونا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندے کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین کرتا ہے۔ اور یہ باطنی امر اس مباح میں پایا جاتا ہے جس کا شریعت میں کوئی حکم نہیں ہے کیونکہ یہ قبیل نہی سے تعلق رکھتا ہے اور نہ اس کا رابطہ امرِ واجب سے ہے اور اس پر بندے کو اختیار دیا گیا ہے خواہ وہ اسے تصرف و استعمال میں لائے یا نہ لائے اسی کا نام مباح ہے۔

تو بندہ اس میں اپنی طرف سے کچھ بھی ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس کے بارے میں امر کا منتظر رہتا ہے اس چیز کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ اور جب تو درمیان سے الگ ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فعل سے تیرے لیے کوئی کام اختیار کرے تو پھر بھی عذاب عتاب کس بات پر ہو گا۔ تو جب حکم پائے اس پر عمل کرے۔ پھر بندے کی تمام حرکات و سکنات اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوں گی۔ جس کا شریعت میں حکم ہے وہ شریعت کے ساتھ ہوں گی۔ جس کا شریعت میں حکم نہیں ہے وہ امرِ باطن کے ساتھ ہوں گی۔ اس وقت بندہ اہلِ حقیقت کے زمرے میں ہو جائے گا۔ اور جن حرکات و سکنات کے بارے میں کوئی حکمِ باطن نہیں ہے وہ صرف فعلِ الہٰی (محض تقدیر) ہو گا جسے حالتِ تسلیم کہتے ہیں۔ اگر تو حق الحق کی حالت میں ہو تو یہ مٹنے اور فنا ہونے کی حالت ہے۔ اور یہ حالت اللہ تعالیٰ کے لیے شکستہ دلوں، موحدوں، عارفوں، اربابِ علم و دانش، سرداروں کے سردار، خلق کے محافظ اور نگہبانوں دوستانِ حق اور خاصانِ بارگاہ کو حاصل ہوتی ہے۔ تو ان حالات میں امرِ الہٰی کی پیروی یہی ہے کہ تو خود اپنا مخالف ہو جا۔ زور و طاقت سے بے زار ہو کر یہ کہ دنیا اور آخرت کی کسی چیز میں بھی تیرا ارادہ و قصد نہ ہو تو اس صورت میں تو بادشاہِ حقیقی کا بندہ ہو گا، امرِ حق کا بندہ ہو گا، نہ کہ خواہش کا بندہ، جیسے بچہ دودھ پلانے والی دایہ کے ہاتھوں میں اور مردہ نہلانے والے کے سامنے میّت اور طبیب (ڈاکٹر) کے سامنے بے ہوش بیمار کی طرح۔ پس اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کی شناخت و پیروی کے علاوہ تو دیگر تمام امور سے بے ہوش و بے خبر ہو گا۔

(مترجم: محمد عبد الاحد قادری)

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: