فتوح الغیب – مقالہ ۱۱


فتوح الغیب – مقالاتِ محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر گیلانی

مقالہ ۱۱ – نکاح کی خواہش سے صبر

قال القطب الرباني الشيخ أبو محمد عبد القادر الجيلاني رضي الله عنه وأرضاه في كتاب فتوح الغيب: إذا ألفيت عليك شهوة النكاح في حالة الفقر وعجزت عن مؤنته فصبرت عنه منتظر الفرج من الباري عزَّ وجلَّ، إما بزوالها أو إقلاعها عنك بقدرته التي ألقاها عليك وأوجدها فيك فيعينك ويصونك وحياتك عن حمل مؤنتها أيضا أو بإيصالها إليك موهبة مهنئًا مكفيًا من غير ثقل في الدنيا ولا تعب في العقبى، وسماك الله عزَّ وجلَّ صابرًا شاكرًا لصبرك عنه راضيًا بقسمته فزادك عصمة وقوة. فإن كان قسمًا لك ساقها إليك مكفيًا مهنئًا فينقلب الصبر شكرًا، وهو عزَّ وجلَّ وعد الشاكرين بالزيادة في العطاء. قال عزَّ وجلَّ:

{{لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} إبراهيم: 7.

وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ}

وإن لم تكن قسمًا لك فالغنى عنها بقلعها من القلب إن شاءت النفس أو أبت، فلازم الصبر وخالف الهوى وعانق الأمر وارض بالقضاء، وارج بذلك الفضل والعطاء. وقد قال الله تعالى:

{إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ} الزمر: 10.

 

ترجمہ: شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جب غربت و ناداری کی حالت میں تجھے نکاح کی خواہش پیدا ہو اور تو اس کا بوجھ و ذمہ داری سے عاجز ہو تو پھر اس معاملہ کے حل کی اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہوئے انتظار کر۔ اور جس کی قدرت سے تیرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی ہے شاید وہ تیرے دل سے اس خواہش کو مٹا دے یا وہ اس خواہش کی تکمیل کا سامان اس طرح اپنی عطا و بخشش، نرمی و سہولت اور برکت سے کافی و شافی طور پر مہیا فرما دے گا کہ نہ تو اس دنیا کے بوجھ تلے آئے اور نہ یہ آخرت میں تیرے لیے مصیبت کا سبب بنے۔ پھر اللہ تعالیٰ تیرا نام صابر شاکر رکھ دے گا اس تیرے صبر کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہونے کی وجہ سے تجھے عصمت و قوت میں زیادتی عطا فرمائے گا۔ صبر کے بعد جو نعمت کفایت اور سعادت کے طور پر اللہ کریم نے تجھے عطا کی ہے، اس وقت صبر شکر سے بدل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے شکر کرنے والوں پر اپنی نعمت کی زیادتی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:


ترجمہ: کہ اگر احسان مانو گے تو تمہیں اور دوں گا اور ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔ (کنز الایمان)۔


اور اگر وہ خواہش تیری قسمت میں نہیں پھر تو اسے دل سے مٹا کر بے نیاز ہو جا۔ نفس چاہے یا نہ چاہے، صبر اختیار کر اور خواہشات کی مخالفت کر اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کر اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اس کے فضل اور عطا کی امید کرتے ہوئے راضی ہو جا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:گے تو تمہیں اور دوں گا اور ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔ (کنز الایمان)۔


ترجمہ: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھر پور دیا جائے گا بے گنتی۔ (کنز الایمان)۔


مترجم: محمد عبد الاحد قادری

If you want to receive or deliver something related to this post, feel free to comment.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: